Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Herat Bhari Aankh Main Chen - حیرت بھری آنکھ میں چین

Herat Bhari Aankh Main Chen - حیرت بھری آنکھ میں چین
Herat Bhari Aankh Main Chen - حیرت بھری آنکھ میں چین
-28 %
Herat Bhari Aankh Main Chen - حیرت بھری آنکھ میں چین
Herat Bhari Aankh Main Chen - حیرت بھری آنکھ میں چین
Herat Bhari Aankh Main Chen - حیرت بھری آنکھ میں چین
Rs.900
Rs.1,250

اگر میں کہہ دوں کہ مجھے سلمیٰ اعوان کی نثر سے عشق ہے تو یقین جانیے اس میں رتی برابر مبالغہ نہ ہو گا۔ میں برسوں سے انھیں پڑھ رہا ہوں؛ تب سے جب مجھے ڈھنگ سے قلم تھامنا بھی نہیں آتا تھا۔ جیسی جیتی جاگتی، الہڑ مٹیار کی سی چنچل نثر وہ لکھتی ہیں، کوئی ہے جو ویسی لکھ پائے؟ وہ افسانہ لکھیں یا ناول، کسی موضوع پر مضمون لکھیں یا رپورتاژ اور سفرنامہ، پہلی سطر سے اُنگلی تھامتی ہیں اور آخری سطر تک ساتھ ساتھ لیے چلتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی چِین کے اس سفرنامے میں ہو رہا ہے۔ چِین جو میں نے دیکھ رکھا ہے؛ مگر جس رُخ سے سلمیٰ اعوان نے دکھایا ہے میں نے نہیں دیکھا۔ میں ایک بچے کی طرح اُن کی انگلی تھامے حیرت سے چِین کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہا تھا؛ اس چِین کو جس کے سامنے کے مناظر میں تاریخی اور تہذیبی پس منظر بھی جھانک رہا تھا۔

سلمیٰ اعوان کہیں ستر اور اسّی کی دہائیوں والی اس چینی قوم کو یاد کر رہی ہوتی ہیں جو سائیکلوں پر سوار تھی اور پھر پیڈل مارنے والے زمانے کے لد جانے کے ذکر کے بعد وہ چِین دکھاتی ہیں جس میں عوام شاندار ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں، بسوں اور میٹرو میں سفر کرتے ہیں اور مخصوص یونیفارم پہننے والی خوب رُو لڑکیاں برینڈڈ ملبوسات میں ہیں اور ٹکا کے میک اَپ کرتی ہیں۔

جالندھر کے گاؤں سمی پور میں قیامِ پاکستان سے چار سال قبل پیدا ہونے والی سلمیٰ اعوان ساری عمر ملکوں ملکوں گھومتی رہی ہیں اور دُنیا کو اپنی ننگی آنکھ سے دیکھا ہے۔ وہ طالبِ علمی کے زمانے میں پنجاب یونیورسٹی اور ڈھاکا یونیورسٹی میں پڑھتی رہیں۔ لہٰذا چِین کے اس سفرنامے میں یہاں وہاں کے اور ہر زمانے کے مناظر بہم ہو کر اسے کہیں زیادہ دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ یوں یہ سفر نامہ اس لڑکی کی کہانی ہو گیا ہے جس نے ڈھاکا یونیورسٹی کے گرلز ہال میں چِین اور روس نواز طالبات کے مائو اور لینن سے یگانگت کے نعرے سنے تھے اور مائو کی ترجمہ شدہ طوفانی نظموں کو جوشیلی آوازوں میں جنونی لڑکیوں سے گاتے ہوئے سنا تھا۔ یہ کہانی اس عورت کی بھی ہے جس نے سن ساٹھ کے ان چینیوں کو دیکھاتھا جو کراچی کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھ کر کہتے تھے کاش ہمارے پاس بھی کراچی جیسا ایک شہر ہوتا اور اب چین کی عظمت کو اپنی بوڑھی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور ہمیں دکھا رہی ہے؛ ان دو آنسوؤں کے ساتھ جو آنکھوں سے ٹپک کر گالوں پر پھسل رہے ہیں۔ سلمٰی اعوان چِین کی عظمت کے ایک ایک نشان کو دکھاتے ہوئے ہمیں وہ چلن بھی سُجھا دیتی ہیں جو کسی زندہ قوم کا ہو سکتا ہے ۔

محمد حمید شاہد

Book Attributes
Pages 320

Write a review

Note: HTML is not translated!
Bad Good