New
-38 %
Kainati Sawalaat - کائناتی سوالات
- Writer: Yasir Jawad
- Category: History Books
- Pages: 240 + Art Paper Pictures Edition
- Stock: In Stock
- Model: STP-15568
Rs.1,850
Rs.3,000
ہم کون ہیں؟ ہم یہاں کیسے آئے اور کہاں جا رہے ہیں؟
ستارے، بلیک ہولز اور انسان کا مستقبل: ہمارے بڑے "کائناتی سوالات" اور ان کے اردو جوابات
ارادہ تو آج کسی اور موضوع پر لکھنے کا تھا، مگر کل جب ہفتے کو ملنے والی کتاب اٹھا کر اس پر سرسری نظر ڈالی اور مطالعہ شروع کیا، تو اس نے مجبور کر دیا کہ آج اسی کے بارے میں لکھا جائے۔
یہ کتاب دراصل معروف انگریزی کتاب Cosmic Queries کا اردو ترجمہ ہے، جسے ہمارے پسندیدہ مترجم یاسر جواد صاحب نے اردو میں "کائناتی سوالات" کا لبادہ اوڑھایا ہے۔
اصل کتاب Neil deGrasse Tyson کی ہے، اور اس کا مکمل عنوان ہے:
Cosmic Queries: StarTalk’s Guide to Who We Are, How We Got Here, and Where We’re Going۔
یہ کتاب 2021 میں National Geographic سے شائع ہوئی تھی، اور Neil deGrasse Tyson نے اسے James Trefil کے ساتھ مل کر لکھا ہے۔
اس کتاب کے بارے میں یاسر جواد صاحب کی چند تحریریں پہلے بھی نظر سے گزری تھیں۔ وہ صرف اس کے موضوع یا مواد کے بارے میں نہیں لکھ رہے تھے، بلکہ خاص طور پر اس کی کوالٹی اور طباعتی معیار کا بھی بار بار ذکر کر رہے تھے۔ چونکہ یہ کتاب سائنس، اور خاص طور پر کائنات، فلکیات اور Astrophysics جیسے میرے پسندیدہ موضوعات سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے اسے منگانے کا ارادہ تو وہیں ہو گیا تھا۔ دل میں ایک امید یہ بھی تھی کہ شاید اس کی پریزینٹیشن بھی اتنی ہی عمدہ ہوگی جتنی اس کے موضوع سے توقع بنتی ہے۔
اور سچ پوچھیں تو سب سے پہلے اگر کسی چیز نے متاثر کیا تو وہ اس کتاب کی ظاہری خوبصورتی اور پرنٹ کوالٹی ہے۔
واقعی، اتنی بہترین کوالٹی کی کتابیں بہت کم ہی میری نظر سے گزری ہیں۔ صفحات کی کوالٹی شاندار، طباعت نہایت صاف، رنگین انداز دلکش، اور تصاویر ایسی کہ مطالعہ صرف مطالعہ نہیں رہتا بلکہ ایک خوبصورت Visual Experience e بن جاتا ہے۔ یاسر جواد صاحب نے اس کی کوالٹی کے بارے میں جو کچھ لکھا تھا، وہ ہرگز مبالغہ نہیں تھا۔ بلکہ کتاب ہاتھ میں آنے کے بعد محسوس ہوا کہ شاید الفاظ اس معیار کو مکمل طور پر بیان بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ یعنی ایک طرف مواد پہلے ہی دلچسپی پیدا کر رہا تھا مگر دوسری طرف اس کی پیشکش نے اس پر واقعی چار چاند لگا دیے ہیں۔
اور یہ بات پورے اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی شخص صرف کتاب کو ہاتھ میں لے کر اس کے چند صفحات الٹ پلٹ لے، تو وہ بھی اس کے طباعتی معیار سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔
لیکن ظاہر ہے کہ کسی اچھی کتاب کی اصل جان صرف اس کی ظاہری خوبصورتی نہیں ہوتی۔ اصل سوال ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ کتاب اپنے اندر کیا رکھتی ہے؟
یہ کس موضوع پر ہے؟ کس نوعیت کی ہے؟ اور کیوں اہم ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ سائنس، اور خاص طور پر کائنات، فلکیات اور جدید طبیعیات جیسے موضوعات پر اردو میں معیاری، سنجیدہ اور خوبصورت کتابیں اب بھی بہت کم ملتی ہیں۔ ایسی کتابیں صرف معلومات نہیں دیتیں، بلکہ زبان کے علمی دائرے کو بھی وسیع کرتی ہیں۔ اسی لیے اس کتاب کو محض ایک اور ترجمہ سمجھنا شاید اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
میرے نزدیک یہ اردو قاری کے لیے کائنات، ستاروں، بلیک ہولز، وقت، خلا، وجود اور انسانی تجسس کی دنیا میں داخل ہونے کا ایک خوبصورت دروازہ ہے۔
اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ یہ کتاب ہے کیا؟
جیسا کہ نام سے ہی اندازہ ہوتا ہے، یہ کوئی ایسی کتاب نہیں جو صرف ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کے نام گنوا کر ختم ہو جائے۔ یہ دراصل اُن بڑے سوالوں کی کتاب ہے جو انسان نے صدیوں سے آسمان کو دیکھ کر خود سے پوچھے ہیں۔
ہم کون ہیں؟
ہم یہاں کیسے پہنچے؟
کائنات کی ابتدا کیسے ہوئی؟
ہمیں کائنات کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے، وہ ہمیں معلوم کیسے ہوا؟
زندگی کہاں سے آئی؟
کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟
اور آخرکار ہم جا کہاں رہے ہیں؟
اصل کتاب کے ابواب بھی تقریباً انہی بنیادی سوالات کے گرد گھومتے ہیں، مثلاً:
کائنات میں ہماری جگہ کیا ہے؟
ہم جو جانتے ہیں، وہ جانتے کیسے ہیں؟
کائنات اتنی پرانی کیسے ہے؟
یہ کس چیز سے بنی ہے؟
زندگی کیا ہے؟
کیا ہم اکیلے ہیں؟
اور یہ سب شروع کیسے ہوا؟
اور شاید یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے کہ یہ صرف Astronomy یا Astrophysics کی کتاب نہیں لگتی، بلکہ ایک مقام پر آ کر سائنس، فلسفہ، انسانی تجسس اور وجودی سوالات کا حسین امتزاج محسوس ہونے لگتی ہے۔
نیل ڈی گراس ٹائسن کا ایک بڑا کمال یہ ہے کہ وہ مشکل ترین سائنسی تصورات کو بھی اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کسی خشک یا بھاری علمی متن سے گزر رہا ہے۔ وہ فارمولوں اور پیچیدہ اصطلاحات کے انبار نہیں لگاتے، بلکہ قاری کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ اس کائنات کی سیر کرواتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں علم کے ساتھ ایک روانی، ایک مکالماتی انداز، اور ایک زندہ تجسس بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اور Cosmic Queries کی خاص بات بھی یہی ہے۔
یہ کتاب آپ کو محض “معلومات” نہیں دیتی، بلکہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ کائنات کو صرف ایک سائنسی موضوع کے طور پر پیش نہیں کرتی، بلکہ ایک ایسے حیرت انگیز منظرنامے کے طور پر سامنے لاتی ہے جس کے بارے میں جتنا جانیں، اتنا ہی مزید جاننے کی خواہش پیدا ہو۔ اس میں مصنف یہ تاثر نہیں دیتے کہ گویا اب سب کچھ معلوم ہو چکا ہے، بلکہ وہ یہ احساس بھی دلاتے ہیں کہ سائنس کا اصل حسن صرف جوابوں میں نہیں، بلکہ سوال پوچھنے کی دیانت میں بھی ہے۔ کہیں ہمارے پاس واضح جواب ہیں، کہیں جزوی جواب، اور کہیں انسان اب بھی حیرت کے کنارے کھڑا ہے اور میرے نزدیک یہی اس کتاب کی سب سے خوبصورت باتوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی اس کتاب کی ایک بڑی خوبی ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے حقائق کی کتاب نہیں، بلکہ بڑے سوالات کی کتاب ہے۔ اس میں Big Bang کا تصور بھی ہے، کائنات کی عمر کا سوال بھی، روشنی، مادہ، توانائی، کششِ ثقل، ستاروں کی پیدائش و موت، کہکشائیں، ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی جیسے موضوعات بھی ہیں۔ لیکن کتاب کا دائرہ صرف اتنا نہیں رہتا۔
یہ زندگی کی ابتدا تک جاتی ہے، زمین سے باہر زندگی کے امکان تک پہنچتی ہے، اور پھر آخرکار انسان کو خود اس کے اپنے وجود کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔
یعنی اگر سادہ لفظوں میں کہا جائے تو یہ کتاب صرف “اوپر آسمان” کی بات نہیں کرتی، بلکہ آخر میں “انسان” تک واپس آتی ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب صرف سائنس سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہم نہیں، بلکہ اُن سب لوگوں کے لیے بھی قیمتی ہے جو بڑے سوالات سے محبت رکھتے ہیں۔
یہ کتاب خاص کیوں ہے؟
سائنس کی بہت سی کتابیں معلومات دیتی ہیں، کچھ کتابیں سمجھاتی ہیں، اور کچھ کتابیں متاثر کرتی ہیں۔ لیکن بہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو معلومات بھی دیں، سمجھ بھی دیں، حیرت بھی پیدا کریں، اور قاری کے ذہن کو وسیع بھی کر دیں۔ میرے نزدیک Cosmic Queries انہی کتابوں میں سے ایک محسوس ہوتی ہے۔
اس کی خاص بات صرف یہ نہیں کہ اس میں کائنات کے بارے میں مواد ہے — کائنات پر اور بھی کتابیں موجود ہیں۔ اس کی اصل خاص بات یہ ہے کہ یہ کتاب سائنس کو Human Experience سے جوڑتی ہے۔ یہ آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ کائنات کے بارے میں سوال پوچھنا صرف سائنس دانوں کا کام نہیں، بلکہ یہ انسان ہونے کا حصہ ہے۔ جب ایک بچہ آسمان کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ “یہ سب کہاں سے آیا؟”
تو دراصل وہ بھی اسی فکری روایت میں داخل ہو رہا ہوتا ہے جس میں بڑے سائنس دان، فلسفی اور مفکر داخل ہوتے رہے ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ کتاب StarTalk کی روایت سے جڑی ہوئی ہے۔ یعنی اس کا مزاج صرف درسی یا خشک نہیں، بلکہ ایسا ہے کہ عام قاری بھی اس کے ساتھ چل سکے۔ یہی اس کتاب کی ایک بڑی خوبی ہے کہ یہ بڑے سوالات کو عام فہم انداز میں سامنے لاتی ہے اور پیچیدہ تصورات کو بھی قابلِ رسائی بنا دیتی ہے۔
اور میرے نزدیک اردو قاری کے لیے اس کتاب کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔
انگریزی میں سائنس، فلکیات، کائنات، Cosmology اور Astrophysics پر بے شمار عمدہ کتابیں موجود ہیں۔ لیکن اردو میں اب بھی یہ دائرہ محدود ہے۔ خاص طور پر ایسی کتابیں جو موضوع کے اعتبار سے سنجیدہ ہوں، اندازِ پیشکش کے اعتبار سے خوبصورت ہوں، عام قاری کے لیے قابلِ فہم ہوں، اور علم کے ساتھ ساتھ ذوق بھی پیدا کریں — ایسی کتابیں واقعی کم ہیں۔
اسی لیے یہ کتاب صرف ایک “ترجمہ” نہیں، بلکہ میرے نزدیک اردو علمی دنیا میں ایک اہم اضافہ ہے۔
یہ کتاب کس کے لیے ہے؟
یہ اُن نوجوانوں کے لیے بھی قیمتی ہے جو سائنس سے محبت رکھتے ہیں مگر انگریزی کی وجہ سے بہت سی اچھی کتابوں تک پوری رسائی نہیں رکھتے۔ یہ اُن قارئین کے لیے بھی اہم ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اردو میں صرف ادب، ناول، تاریخ یا مذہب ہی نہیں، بلکہ اعلیٰ درجے کی سائنس رِیڈنگ بھی ہونی چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ اُن لوگوں کے لیے ضروری ہے جو اپنے ذہن کو صرف معلومات سے نہیں بلکہ ایک Cosmic Perspective سے وسیع کرنا چاہتے ہیں۔
ایک غلط فہمی یہ بھی ہوتی ہے کہ ایسی کتابیں شاید صرف سائنس کے طلبہ، فزکس کے طالب علموں یا فلکیات کے شوقین افراد کے لیے ہوتی ہیں۔ میرا خیال ہے یہ بات پوری طرح درست نہیں۔ ہاں، اگر آپ کو پہلے سے کائنات، ستاروں، بلیک ہولز یا سائنسی سوالات سے دلچسپی ہے تو یہ کتاب یقیناً آپ کو اور بھی زیادہ لطف دے گی۔
لیکن اگر آپ محض ایک تجسس پسند قاری ہیں، اگر آپ بڑے سوالات سے محبت رکھتے ہیں، اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انسان نے کائنات کے بارے میں کیا کچھ جان لیا ہے اور کیا کچھ ابھی باقی ہے تو پھر بھی یہ کتاب آپ کے لیے ہے۔
اور میرے نزدیک ایک اچھے قاری کی پہچان یہی ہے کہ وہ صرف اپنے شعبے کی کتابیں نہیں پڑھتا، بلکہ اُن موضوعات سے بھی رشتہ بناتا ہے جو اس کی فکر کو وسیع کریں۔
میری ابتدائی رائے یہی ہے کہ یہ کتاب اُن نایاب کتابوں میں سے ہے جن میں موضوع کی عظمت، مصنف کی علمی ساکھ، اندازِ بیان کی کشش، طباعتی معیار، اور اردو قاری کے لیے افادیت, یہ سب ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں۔
ایک طرف Neil deGrasse Tyson جیسا نام، دوسری طرف کائنات جیسے موضوع کی فطری کشش، تیسری طرف ایک ایسا اسلوب جو عام قاری کو ساتھ لے کر چلتا ہے، اور پھر اس سب پر اردو ترجمے کی صورت میں ایک ایسا دروازہ جو بہت سے قارئین کے لیے اس علم کو قریب لے آئے — یہ سب مل کر اس کتاب کو خاص بنا دیتے ہیں۔
اور سچ کہوں تو یہ اُن کتابوں میں سے لگتی ہے جنہیں صرف شیلف پر رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ وقت دے کر، غور سے، اور ذوق کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے۔
اگر آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو کتاب میں صرف کہانی نہیں، فکر بھی ڈھونڈتے ہیں… جو مطالعے میں صرف معلومات نہیں، وسعتِ نظر بھی چاہتے ہیں… جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک اچھا قاری صرف ادب نہیں پڑھتا بلکہ کائنات، انسان، سائنس اور وجود کے بڑے سوالوں سے بھی رشتہ رکھتا ہے… تو پھر یہ کتاب یقیناً آپ کی توجہ چاہتی ہے۔
اور اگر آپ اردو میں ایسی کتابوں کی کمی کا شکوہ کرتے رہے ہیں، تو پھر ایسی کتابوں کا خیر مقدم بھی ہونا چاہیے۔
کیونکہ سچ یہی ہے کہ ہر زبان کو صرف شاعری نہیں، ستارے بھی چاہیے ہوتے ہیں۔
اور یہ کتاب اردو کے آسمان میں ایسا ہی ایک خوبصورت، روشن اور باوقار اضافہ محسوس ہوتی ہے۔
توصیف اکرم نیازی
Urdu Translation of Cosmic Queries By Neil DeGrasse With James Trefil
Translated By Yasir Jawad
| Book Attributes | |
| Pages | 240 + Art Paper Pictures Edition |