New
-5 %
Zikar Kuch Mukhtalif Kitabon Ka - ذکر کچھ مختلف کتابوں کا
- Writer: Aqeel Abbas Jafari
- Category: History Books
- Pages: 360
- Stock: In Stock
- Model: STP-15113
Rs.4,750
Rs.5,000
ادب میں غلط بخشیوں، جعل سازیوں، غلط منسوبات اورسرقوں کی داستانیں جابجا بکھری پڑی ہیں۔ کچھ کتابیں ایسی ہیں ، جنہیں لکھا کسی گم نام مصنف نے ہے اور انھیں کچھ نامور مصنّفین نے خود سے منسوب کرلیا ہے۔ کچھ کتابیں نامور مصنّفین نے فرضی یا قلمی ناموں سے لکھی ہیں، کچھ باضابطہ سرقے کے ضمن میں آتی ہیں، اس کتاب میں ایسی متعدد کتابوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اردو زبان میں کتابوں کے مصنّفین کے غلط انتسابات کے تعلق سے شعبہ اردو سندھ یونیورسٹی نے 1996-97ءمیں اپنے شعبہ جاتی تحقیقی مجلے ”تحقیق“ کے دو شمارے مشترکہ طور پر پیش کیے تھے۔ اس شماروں کوڈاکٹر مصطفی خان، مسز رابعہ اقبال اور ڈاکٹر نجم الاسلام نے مرتب کیا تھا۔ہمارے علم کی حد تک یہ اردو میں اپنی نوعیت کا واحد کام ہے جس میں بہت سی عربی، فارسی، اردو اور سندھی کتابوں کے بارے میں تفصیلات بہم پہنچائی گئی ہیں۔
اس مجلے میں ڈاکٹر خلیق انجم کا ایک تحقیقی مضمون ”غلط انتسابات کے اسباب ووجوہ“ شامل ہیں جس میں ان انتسابات کے اسباب ووجوہ پر تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔
............٭٭٭............
اردو شاعری میں سرقہ، توارداور استفادہ ایک علیحدہ شعبہ ہے۔
اساتذہ فن کے زمانے میں مصرع طرح پر غزلیں لکھنے کا رواج عام تھا، چنانچہ ہم عصر شعرا جب مصرع طرح پر طبع آزمائی کرتے تھے تو معاملہ توارد سے بڑھ کر سرقے تک جا پہنچتا تھا۔ مصحفی اور انشا کی بہت سے غزلیں یکساں ہیں، امیر مینائی اور داغ کی کئی غزلوں میں ایک جیسے اشعار موجود ہیں۔ خود ہمارے زمانے میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں مثلاً جون ایلیا اور عدیم ہاشمی کے یہ دو اشعار دیکھئے:
بہت نزدیک آتی جارہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا
(جون ایلیا)
بہت نزدیک آتے جارہے ہو
بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا
(عدیم ہاشمی)
............٭٭٭............
اردو کے مشہور ادبی جریدے ”مہر نیم روز“ نے 1950-60ءکی دہائیوں میں سرقے کی زد میں آنے والی متعدد تصانیف کے خلاف ادبی سراغ رساں کے قلمی نام سے ایک باقاعدہ مہم چلائی تھی اور اردو کے صف اول کے ادیبوں کے سرقوں کو بے نقاب کیا تھا۔ یہ تمام مضامین کچھ اضافوں کے ساتھ شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ ،جامعہ کراچی نے اپنے ادبی رسالے ”جریدہ“ کے ایک خاص نمبر اور بعدازاں کتابی صورت میں شائع کردیئے ہیں۔ 1968ءمیں میزان الادب لاہور سے ممتاز لیاقت کی کتاب ”بکف چراغ دارد“ شائع ہوئی جس میںچند نامور ادیبوں کے سرقوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔2019ءمیں ہندوستان سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ”اثبات“ نے بھی اسی نوعیت کا ایک خاص نمبر شائع کیا۔ڈاکٹر نذر خلیق نے ”اردو ادب میں سرقہ اور جعل سازی کی روایت“ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق احمد کی نگرانی میں مقالہ تحریر کرکے اسلامیہ یونیورسٹی، بہاولپور سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ انہوں نے اپنے اس مقالے میں سرقہ شدہ کتابوں اور تحریروں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی ، ایم فل اور ایم اے کی اسناد کے حصول کے لیے لکھے گئے بعض ایسے مقالوں کا ذکر بھی کیا جو سرقے کی زد میں آتے ہیں۔
............٭٭٭............
اس نوعیت کے واقعات صرف اردو دنیا تک محدود نہیں بلکہ عالمی ادب میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ ایک واقعہ سنتے چلیے۔
”گزشتہ دنوں اسپین میں ایک ادبی تقریب میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب کارمن مولا نامی ایک خاتون مصنفہ کو سنسنی سے بھرپور ناول ’لا بیستیا‘ (درندہ) پر دس لاکھ یورو انعام دینے کا اعلان کیا گیا لیکن وہ انعام لینے کے لیے تین مرد اسٹیج پر آگئے۔
خبر کے مطابق، اس سال اسپین میں ’2021 پریمیو پلینیٹا‘ ادبی انعام کا حقدار کارمن مولا نامی ایک خاتون کو قرار دیا گیا جس کی مالیت 10 لاکھ یورو یعنی 30 کروڑ پاکستانی روپے کے لگ بھگ بنتی ہے۔ تاہم جب تقریب میں خاتون کا نام پکارا گیا تو اسٹیج پر تین ادھیڑ عمر مرد پہنچ گئے جن کے نام آگسٹین مارٹینیز، ہورگے ڈیاز اور اینٹونیو مرسیرو بتائے گئے ہیں جو اسپین میں ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے لیے اسکرین پلے لکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کارمن مولا کا کوئی وجود نہیں بلکہ وہ تینوں ہی اس خاتون کے فرضی نام سے ناول نگاری کرتے ہیں۔
بتاتے چلیں کہ ناول ’لا بیستیا‘ کی کہانی 1834ءمیں ہیضے کی عالمی وبا کے گرد گھومتی ہے جس کا آغاز 1817ءمیں ہندوستان سے ہوا، جو 1837ءتک مرحلہ وار جاری رہی اور یورپ سے لے کر امریکا تک پھیل گئی۔ ہیضے کی اسی وبا کے باعث مختلف یورپی ممالک میں بدترین حالات پیدا ہوئے اور نوبت خانہ جنگی تک پہنچ گئی۔
انعام پانے والے تینوں مرد مصنّفین کارمن مولا کا مشترکہ فرضی نام اختیار کرنے سے پہلے اپنے اصل ناموں سے الگ الگ لکھا کرتے تھے اور ٹی وی سیریز ’سینٹرل ہاسپٹل‘ کے علاوہ ’بلائنڈ ڈیٹ‘ کے اسکرپٹ پر بھی کام کرچکے تھے۔ مارٹینیز، ڈیاز اور مرسیرو آپس میں دوست بھی ہیں اور اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے ایک خاتون کے مشترکہ فرضی نام سے لکھنے کا فیصلہ انہوں نے چند سال پہلے کیا تھا۔ نام کے ساتھ ساتھ انہوں نے کارمن مولا کو ایک منفرد شناخت بھی دی تاکہ لوگوں کو اس کے وجود پر یقین ہوسکے۔ ناولوں میں بتایا گیا کہ کارمن مولا ایک 40 سالہ خاتون پروفیسر ہیں جو اسپین کے شہر میڈرڈ میں پیدا ہوئیں، تین بچوں کی ماں ہیں اور اپنے فارغ وقت میں ناول لکھتی ہیں۔
حیرت انگیز طور پر کارمن مولا کے انٹرویو بھی شائع ہوئے لیکن کسی نے ان کا چہرہ نہیں دیکھا بلکہ ہر تصویر میں انہیں کیمرے کی طرف پشت کیے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ناشر پینگوئن رینڈم ہاﺅس کے بقول، کارمن مولا ایک خاتون لکھاری تھیں جو میڈرڈ میں پیدا ہوئیں۔ مولا کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ 40 سالہ ہیں اور تین بچوں کی ماں ہیں، جو بطور پروفیسر کام کرتی ہیں اور فارغ اوقات میں ناول لکھتی ہیں۔ البتہ کارمن مولا کی حقیقت ظاہر ہوجانے کے بعد ان تینوں مصنّفین کو خواتین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
کینیڈین مصنفہ سوسین سوان نے اس حرکت کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان مرد مصنّفین میں انسانیت ہے تو انہیں انعام کی یہ رقم واپس کردینی چاہیے یا پھر خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی کسی تنظیم کو عطیہ کردینی چاہیے۔
............٭٭٭............
اس کتاب میں بیشتر تحریریں اردو کے نامور ادیبوں کی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ سرقہ اور توارد کے موضوع پر اردو میں کئی کتابیں پہلے شائع ہوچکی ہیں اس لیے ہم نے ان سے مضامین حاصل کرنے سے اجتناب کیا ہے تاہم چند ایسے مضامین جو ہماری اپنی تحقیق کا نتیجہ تھے اور اثبات کے سرقہ نمبر میں ہمارے شکریہ کے ساتھ شائع ہوئے تھے پاکستانی قارئین کے لیے اس کتاب میں دوبارہ شامل کیے گئے ہیں۔
............٭٭٭............
اس کتاب کی ترتیب کے لیے میں ڈاکٹر باقر علی شاہ ،ڈاکٹر مرزا حامد بیگ اور جناب اطہر فاروقی(معتمد، انجمن ترقی اردو ہند) کا بے حد شکر گزار ہوں جن کے مشوروں اور رہنمائی کے بغیر اس کتاب کی ترتیب ممکن نہ تھی۔ یہ کتاب بجاطور پر انہیں احباب کے نام معنون کی جارہی ہے۔
ڈاکٹر عقیل عباس جعفری
| Book Attributes | |
| Pages | 360 |