- Writer: Ashraf Shad
- Category: Novels
- Pages: 395
- Stock: In Stock
- Model: STP-11357
- ISBN: 969-35-3737-5
جب ’’وزیراعظم‘‘ اشاعت کے مراحل طے کر رہا تھا تو نئے ناول کا ابتدائی خاکہ، پلاٹ، کرداروں کا انتخاب اور ابواب کی تقسیم تک مکمل ہوگئی تھی، اسی لیے ’’وزیراعظم‘‘ میں یہ نوید دی گئی تھی کہ ’’صدرِ محترم‘‘ ۲۰۰۰ء میں منظرِ عام پر آجائے گا۔ بہت سے دوست بازار میں تلاش کرتے رہے، جو خیر خواہ تھے۔ انہوں نے کسی نہ کسی ذریعے سے رابطہ کرکے بتایا بھی کہ کتاب بازار سے غائب ہے لیکن تخلیقی کام بھی مشینی عمل یا ٹائم ٹیبل کا پابند نہیں ہوتا۔’’صدرِ محترم‘‘ لکھنے میں دو کی جگہ چار سال لگ گئے۔
تاخیر کی کئی وجوہات تھیں۔ کچھ روزگار کی مصروفیات تھیں، حالاتِ زمانہ بھی سازگار نہیں تھے۔ ’’وزیراعظم‘‘ لکھنے کے دوران تین وزرائے اعظم بدلے تھے، ’’صدرِ محترم‘‘ لکھتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کے پورے ادارے کی بساط الٹ گئی۔ اس وقت ایک دوست نے مشورہ دیا تھا کہ نام بدل کر ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ رکھ دیا جائے، لیکن میں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، مجھے کتاب کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
نام تبدیل کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ’’صدر محترم‘‘ محض ایک فینٹسی ہے، کسی سچ مچ کے کردار کو سامنے رکھ کر نہیں لکھی گئی … یہ سبق میں نے ’’وزیراعظم‘‘ سے سیکھا تھا۔ کہانی وزیراعظم کی بھی افسانوی تھی، لیکن کئی کردار پاکستان کی سیاست سے لیے گئے تھے۔ اکثر قاری فرضی ناموں کے پیچھے چھُپے ہوئے اصلی کرداروں کی تلاش میں کھو گئے۔ ان کرداروں میں بھی کسی نہ کسی کی شباہت تلاش کر لی گئی جو واقعی فرضی تھے۔ ’’وزیراعظم‘‘ کے برعکس میں نے ’’صدرِ محترم‘‘ میں یہ احتیاط رکھی ہے کہ کوئی کردار اتفاقاً بھی حقیقی نہ نظر آئے۔
’’صدرِ محترم‘‘ ایک مختلف طرح کا فکشن ہے۔ یہ ایک سپنا ہے۔ میں نے یہ خواب ’’وزیراعظم‘‘ لکھتے ہوئے دیکھا تھا لیکن اسے اس میں سمونہ سکا تھا۔ اسی لیے ’’وزیراعظم‘‘ اپنے انجام کے اعتبار سے ایک نامکمل ناول تھا۔ ’’صدرِ محترم‘‘ میں اس کی تکمیل ہوئی ہے۔ ایک ایسا صدر برسرِ اقتدار آیا ہے جو ملک کی کایا پلٹ کر اسے ’’نیا پاکستان‘‘ بنا دیتا ہے۔ یہ مستقبل کی کہانی ہے۔ ’’وزیراعظم‘‘ زمانہ حال کی کہانی تھی۔ وہ حال جو ماضی ہی کا حصّہ تھا اور جس کے آئینے میں مستقبل دیکھنا مشکل تھا۔ میں نے یہ مستقبل ’’صدرِ محترم‘‘ میں دیکھنے کی کوشش کی ہے لیکن گزشتہ دو تین برسوں سے زمین اتنی تیزی سے گردش کر رہی ہے کہ مستقبل نزدیک آکر پھر دور چلا جاتا ہے۔
پاکستان میں جب حالیہ فوجی انقلاب آیا تھا۔ اس وقت میں ’’نیا پاکستان‘‘ والا باب لکھ چکا تھا۔ میں نے سڈنی میں ایک ایڈیٹر دوست کو گواہ بنا کر اس کے اقتباسات سنائے تھے۔ کئی چیزیں اسی طرح ہو رہی تھیں جیسے لکھی گئی تھیں لیکن پھر سب کچھ آتے جاتے موسموں کا کھیل بن گیا۔ کئی بار یہ بھی ہوا کہ دنیا اس مقام پر آتے آتے رک گئی جو ’’صدر ِ محترم‘‘ کی کہانی کا اختتام ہے اور میں کانپ گیا کہ کہیں واقعی ایسا نہ ہو جائے۔ اس ناول کے آخری دو باب لکھتے ہوئے میں نے اپنی تمام عقیدتوں کو جمع کرکے یہ دعا کی تھی کہ میری کہانی کا انجام سچ ثابت نہ ہو …میرا یہ ناول محض ایک فینٹسی ہی نہیں، امن کی شدید خواہش کا اظہار بھی ہے۔
پاکستان میں میرے پچھلے دونوں ناولوں ’’بے وطن‘‘ اور ’’وزیراعظم‘‘ کے بارے کافی کچھ لکھا گیا۔ کچھ اچھا لکھا گیا ہوگا اور شاید کچھ اچھا نہ بھی لکھا گیا ہو لیکن میں جہاں رہتا ہوں ، وہاں تک ان تمام چیزوں کی رسائی نہیں ہے، اس لیے میرا ذہنی سکون اور اطمینان قائم ہے۔ بے خبری ایک نعمت ہے اور میں اس نعمت سے مالا مال ہوں۔ میری ایک الگ دنیا ہے ، جہاں میں زنگ آلودہ زنجیروں اور روایتی قیود سے آزاد ہو کر اور کسی تنقید نگار کو نہیں، قاری کو سامنے رکھ کر لکھتا ہوں اور اسی سے دادکا طلب گار بھی ہوں۔
| Book Attributes | |
| Pages | 395 |