Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Tehzeeb Ki Karaat - تہذیب کی قرات

Tehzeeb Ki Karaat - تہذیب کی قرات
Hot -9 %
Tehzeeb Ki Karaat - تہذیب کی قرات
Rs.2,000
Rs.2,200

احمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔ یقیناََ  "تہذیب کی قرات"کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا۔

احمد جاوید صاحب کی تازہ کتاب: تہذیب کی قرات
"مغرب سے لڑنا گویا مغرب کے جال میں پھنسنا ہے۔ براہ راست ذہنی تصادم کے بغیر بالکل بے نیازی کی حالت میں چیزوں کو نئے سرے سے ڈیفائن کرو، جس میں ڈیفائنر تمہارا ایمانی شعور ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

 ہمارا سب سے بڑا مسئلہ حالات کی خرابی نہیں ہے، بلکہ احوال کی پستی ہے۔۔۔۔۔۔

میں تصوف کی تردید میں بننے والے ڈسکورس کے اکثر حصوں کو غلط سمجھتا ہوں، لیکن اُن لوگوں کی نیت پہ کوئی شبہ نہیں کرتا۔ ممکن ہے وہ صوفیوں سے زیادہ اللہ والے ہوں۔۔۔۔۔۔۔

علم ہمیشہ ایک تصور علم کے تابع ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی قوم یا فرد یا تہذیب علم کی تشکیل و ترویج کرتی ہے تو وہ یہ سب ایک تصور علم کے تابع ہو کر کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

ماڈرنٹی Modernity ایک Discourseہےا ور Modernism اس کا ایک مظہر ہے جسے Practical Reason نے قبول کر رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔

شریعت کا نفاذ ہماری  سب سے بڑی ذمہ داری ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم شریعت کی قانونی ساخت کو اُس کی اصل اخلاقی ساخت کے ایک ذریعے کی حیثیت دیں۔ شریعت میں قوانین کا نقطہ کمال یہ ہے کہ وہ اخلاق بن جائیں، ورنہ قانون محض جبر ہے۔۔۔۔۔۔۔

ہم ایک تہذیبی شیزوفرینیا میں مبتلا ہیں، جس نے خود ہمیں اپنی نگاہ سے پوشیدہ کررکھا ہے۔ خیالی غلبے کی لذّت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ واقعی مغلوبیت کی کسک محسوس ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلم نشاة الثانیہ کا تصور سردست ایک سیاسی تصور بن گیا ہے جس میں رومانویت کی آمیزش زیادہ ہے۔ اس تصور سے موافقت رکھنے والا ذہن بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ احیائے خلافت کے تصور میں اس کی سوچ کے مطابق خلافتِ راشدہ کی ساری حیثیت اور حقیقت سیاسی رنگ لیے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"

Book Attributes
Pages 360

Write a review

Note: HTML is not translated!
Bad Good