Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Ajnabi - اجنبی

Ajnabi - اجنبی
-13 %
Ajnabi - اجنبی
  • Writer: Albert Camus
  • Category: Novels 
  • Pages: 110
  • Stock: In Stock
  • Model: STP-4093
  • ISBN: 978-969-562-445-6
Rs.350
Rs.400
یہ ناول کئی کرداروں کے گرد گھومتا ہے مگر اسکا مرکز "میرسو(Meursault) " ہے۔ یہ ناول اصل فرینچ زبان میں لکھا گیا ہے۔ اس ناول میں، ہمیشہ کی طرح، کامیو نے(Existentialism and Absurdity) کے نظریے کو پیش کیا ہے۔ اس ناول کو دنیا کا جدید کلاسک مانا جاتا ہے۔ اسی ناول پر البرٹ کامیو کا نوبل انعام ملا تھا۔
ناول کے دو حصے ہیں۔ اس کا انتہائی اہم ترین حصہ دوسرا ہے جب میرسو کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ سزائے موت سے پہلے کورٹ کے چکر اور جیل کے روز و شب۔ اور کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنی موت کا انتظار کرتے رہنا اور پھر پادری سے گفتگو کرنا۔۔۔۔یہ ناول کا کلائیمیکس ہے مگر اس تک جانے کیلئے آپکو کتاب کا پہلا حصہ پڑھنا ہوگا جو کہ ہر طرح سے دوسرے حصے کی بنیاد ہے۔
میرسو پر مقدمہ قتل کی بنا پر چلایا گیا ہے۔ اس نے ایک عرب شخص کو گولی مار کر مارڈالا۔ اور پھر پتا نہیں کیا اسکے دماغ میں سوجھی کہ مارنے کے بعد بھی چار اور گولیاں اسکی لاش پر چلادیں۔ معاملہ جیل اور کورٹ تک پہنچا تو وہاں قتل کیس کا تعلق میرسو کے ماضی سے بھی جوڑا گیا۔
میرسو پر اپنی ماں کے جنازے پر نہ رونے، لاش کو نہ دیکھنے، لاش کے پاس سگریٹ اور کافی پینے کے الزامات بھی اسی مقدمے میں لگائے گئے۔ حالانکہ میرسی سوچ رہا ہے کہ امی کا اور اس مقدمے کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر مخالف وکیل کو ان دونوں میں گہرا تعلق محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرسو اخلاقی اور سماجی لحاظ سے پست شخصیت کا مالک ہے۔ جو لاپرواہ ہے، بے خوف ہے، انسانیت سے اسکا دور تک واسطہ نہیں۔ وکیل کے الفاظ کچھ یوں ہیں،
"جیوری صاحبان! غور فرمائیں! اپنی ماں کی موت کے دوسرے دن یہ شخص اپنی دوست (ماری) سے غیرقانونی جنسی تعلقات قائم کرتا ہے، اس کے بعد مزاحیہ فلم دیکھنے تھیٹر میں جاتا ہے۔ اس سے زیادہ میں آپ سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔"
حالات میرسو کیلئے سازگار نہیں رہتے۔ اس کے ماضی اور اسکے چال چلن کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو سزا ملتی ہے۔ سزا بھی سزائے موت۔ سر دھڑ سے الگ۔
اب جب سزا مل جاتی ہے تو میرسو جیل میں خود موت کا منتظر رہتا ہے۔ اسے پتا ہے سزائے موت صبح کو سویرے کسی بھی دن ملے گی تو وہ دن کو کچھ آرام کرکے رات کو جاگتا یے۔ بقول میرسو کے،
"مجرم کو ہمیشہ صبح سویرے قتل کرنے کیلئے لیکر جاتے ہیں۔ اسلئے میری راتیں صبح کے انتظار میں کٹنے لگیں۔مجھے یہ کبھی اچھا نہیں لگا کہ کوئی بھی مجھے بے خبری میں مجھے اچانک لے جائے۔ جب کوئی بھی واقعہ ہونے والا ہو تو بھتر یہی ہے کہ میں تیار رہوں"
میرسو کا کردار دیکھئے۔ وہ خود موت کا بھی منتظر ہے۔ اور ہاں، اسے پھانسی دیکھنا بھی پسند ہے۔ وہ کہتا ہے، "انسان کیلئے پھانسی سے زیادہ کونسی چیز دلچسپ ہوسکتی ہے۔صحیح معنوں میں پھانسی ہی تو وہ چیز ہے جس کو دیکھنے میں آدمی کو دلچسپی ہونی چاہیے"
آپ کو میرسو کے کردار کا اندازہ تو ہوگیا ہوگا۔ وہ ہر اس کام کو اہمیت نہیں دیتا جس کو دوسرے اہمیت دیتے ہیں۔ اور ہر اس چیز سے نہیں ڈرتا جس سے عام آدمی کو ڈرنا چاہیے۔ وہ خدا کو بھی نہیں مانتا۔ اور ہاں، آپ کو اس کتاب میں یہ حصہ جس میں پادری اور میرسو کی گفتگو ہے، وہ لازمی پڑھنا چاہیے۔ اس میں پادری کوشش کرتا ہے کہ میرسو کو خدا کا اعتراف کروائے اور موت سے ڈرائے اور بعد از موت کے بارے میں بتائے۔ مگر میرسو کہاں سنتا سمجھتا ہے۔
پادری میرسو سے پوچھتا ہے، "آپ کا موت کے بعد دوسری زندگی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ "
میرسو نے جواب دیا، "ایک ایسی زندگی، جو مجھے اِس زندگی کی یاد دلائے"
۔۔۔
ناول کا دوسرا حصہ اہم ضرور ہے مگر آپ اگر پہلا حصہ نہیں پڑھینے تو دوسرا سمجھ میں نہیں آئے گا۔ لیکن مجھے بذات خود پہلے حصے سے زیادہ دوسرا حصہ پسند آیا۔
۔۔۔
بہرحال، یہ ناول ایک نئی نوعیت کا پڑھنے کو ملا۔ جو ہر کتاب دوست کو پڑھنا چاہیے۔ کم سے کم لایعنیت کا تصور اور اس تصور کی مجسم صورت آپکو اس کتاب میں ملے گی۔ جو کہ عجیب بھی ہے اور اچھی بھی۔
Book Attributes
Pages 110

Write a review

Note: HTML is not translated!
Bad Good
Tags: translated , novel