Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Har Aik Janam Ki Janma - ہر ایک جنم کی جانما

Har Aik Janam Ki Janma - ہر ایک جنم کی جانما
Har Aik Janam Ki Janma - ہر ایک جنم کی جانما
-36 %
Har Aik Janam Ki Janma - ہر ایک جنم کی جانما
Har Aik Janam Ki Janma - ہر ایک جنم کی جانما
Har Aik Janam Ki Janma - ہر ایک جنم کی جانما
Rs.900
Rs.1,400

اکیسویں صدی کا آغاز گویا اُردو ناول اور ناول نگاروں کا بھرپور طلوع ہے۔ ان میں ایک اہم اور بڑا نام حفیظ خان کا ہے جو بے پناہ لکھنے والے ہیں۔ اُردو و سرائیکی، ناول، افسانہ اور تقریباً سبھی نثری اصناف میں اپنا سکہ جمانے والے ہمہ جہت مصنف۔ بڑا ادیب وہ نہیں جو ایک آدھ فن پارہ تخلیق کر کے اُسی کے سہارے زندہ رہے۔ بڑا فنکار وہ ہوتا ہے جو مسلسل لکھے، یکساں اور اعلیٰ معیار برقرار رکھتے ہوئے، جیسا کہ حفیظ خان نے بےشمار لکھا اور سبھی ادبِ عالیہ کا حصّہ قرار پایا۔ تاریخ کے واقعات کو جس طرح انھوں نے جزو فکشن کیا ہے تو اُن کا ہر ناول اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ تاریخ جھوٹ بولتی ہے۔ فکشن جھوٹ ہوتے ہوئے بھی سچ کہتا ہے۔ حفیظ خان نے فکشن کے اس سچ سے تاریخ کے جھوٹ افشا کیے ہیں۔ لیکن اسلوب ایسا گتھا ہوا اور تکنیک ایسی سلجھی ہوئی کہ قاری اس سچ کے کڑوے گھونٹ کو بیان کی شیرینی میں ڈیک لگا کے پی جاتا ہے۔ حفیظ خان اپنی دھرتی، اپنی مٹی کی بُو باس میں رچے بسے ہیں اور انہی کے روغن سے لفظوں کے دیے بناتے ہیں جن کی واٹ کو مصنف کا گہرا تجربہ، ریاضت اور فکری ترفع لَو دیتا ہے۔ حفیظ خان فکر، احساس اور پُرمعنی لفظوں کے جو دیے روشن کرتے ہیں، ان میں اپنی رہتل، ماں بولی، اپنا ماضی، ورثہ اور حال سب منور کر دیتے ہیں۔ لیکن خیال رکھتے ہیں، دیا سوختہ سفال سے بنا ہو، نازک کانچ سے نہیں۔

طاہرہ اقبال
خدائے سخن میر تقی میر کے کلام کے بارے میں کسی ستم ظریف کے اس قول کہ ’’بلندش نہایت بلند و پستش نہایت پست است‘‘ سے مجھے کبھی اتفاق نہیں رہا لیکن میرے خیال میں ماضی قریب اور حالیہ دور میں سامنے آنے والے اُردو ناولوں کے معیار پر اس سے زیادہ موزوں تبصرہ ممکن نہیں۔ میں محمد حفیظ خان کے ناولوں خصوصاً ’’انواسی‘‘ کو ان ناولوں میں شمار کرتا ہوں جنھیں اس عرصے میں اُردو ناول نگاری کے معیار کی بلندی کا ضامن سمجھا جاسکتا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب اسے دُہرا رہا ہوں کہ ’’انواسی‘‘ جیسا ناول مغرب میں لکھا جاتا تو اس کے درجنوں ایڈیشن چھپتے، مصنف کو ایوارڈ دیے جاتے اور ناول پر فلمیں بنتیں۔ محمد حفیظ خان کو کہانی ڈھونڈنے اور اسے بیان کرنے کا قابلِ رشک ہنر آتا ہے۔

شعیب بن عزیز
حفیظ خان جدید اُردو فکشن کی ممتاز تر شخصیت ہیں۔ حالیہ دور میں اُنھوں نے اُردو فکشن کو ثروت مند کیا ہے۔ ان کے فکشن کی نمایاں خوبی معاشرے کے اُن مخفی پہلوؤں کو منظرِ عام پر لانا ہے جنھیں قلم زد کرنے کے لیے ہنروری، تجربہ اور سب سے بڑھ کر جراَتِ اظہار چاہیے۔ حفیظ خان کے قلم میں ایسا بَل اور قابلیت ہے کہ جہاں دوسروں کے پاؤں جلتے ہیں وہ اس کٹھن تر مرحلے سے آسانی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔یہ کہنا کسی بھی طرح بعید از قیاس نہیں کہ وہ فکشن کے ایک باریک بین کاریگر ہیں۔

خالد فتح محمد

Book Attributes
Pages 272

Write a review

Note: HTML is not translated!
Bad Good