Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Pat Jhar Ka Tofan - پت جھڑ کا طوفان

Pat Jhar Ka Tofan - پت جھڑ کا طوفان
New -26 %
Pat Jhar Ka Tofan - پت جھڑ کا طوفان
Rs.700
Rs.950

Urdu Translation of Leaf Storm

Translated By Inaam Nadeem

1955 — زمانۂ تحریر: ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘، ۔ زبان: ہسپانوی۔ نام: لا ہوخاراسکا (La hojarasca)، مصنف: گابریئل گارسیا مارکیز
1955 — یہ ناول پہلی مرتبہ کولمبیا کے پبلشر Ediciones S.L.B. (Bogotá, Colombia) نے شائع کیا۔
1972 — اس ناول کا انگریزی ترجمہ گریگری رباسا (Gregory Rabassa) نے “Leaf Storm” کے عنوان سے کیا۔ پہلی اشاعت میں مارکیز کی چند ابتدائی کہانیاں بھی شامل تھیں، اس لیے کتاب کا عنوان “Leaf Storm and Other Stories” رکھا گیا تھا۔ رباسا ایک ممتاز امریکی مترجم تھے جو ہسپانوی اور پرتگالی ادب کے انگریزی تراجم کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے گابریئل گارسیا مارکیز سمیت کئی لاطینی امریکی ادیبوں کی تخلیقات کو انگریزی میں منتقل کر کے عالمی قارئین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مارکیز نے ایک بار کہا تھا کہ وہ رباسا کے انگریزی تراجم کو پڑھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اصل ہسپانوی متن سے بھی بہتر ہیں۔
2026 — ایوارڈ یافتہ پاکستانی ادیب، شاعر اور مترجم انعام ندیم نے گریگری رباسا کے انگریزی ترجمے سے اس ناول کا ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے عنوان سے اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ اس سے قبل مارکیز کا گمشدہ ناول “Until August” اور ان کی تمام کہانیاں بھی اُردو میں منتقل کر چکے ہیں۔

’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ مارکیز کا پہلا ناول ہے۔ تنہائی مارکیز کے نزدیک ایک بنیادی اہمیت کی حامل شے ہے۔ تنہائی انسانی وجود کا ناگزیر سفر ہے۔ تنہائی کے اس موضوع کو مارکیز نے پہلی بار اس ناول میں پیش کیا ہے۔ ناول میں مارکیز نے اپنے شہرۂ آفاق مگر خیالی قصبے ماکوندو کا بیان کیا ہے۔ ماکوندو کی ویرانی کو جس ہولناک مگر بے حد اچھوتے انداز میں اس ناول میں پیش کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے بعد مارکیز نے ’’کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا‘‘ اور ’’منحوس وقت‘‘ نام سے دو ناول اور لکھے مگر دراصل ’’تنہائی کے سو سال‘‘ وہ ناول ہے جس میں ہر اعتبار سے ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کے بیج پنہاں ہیں۔ وہی انسان کی ازلی تنہائی اور وہی ویران قصبہ ماکوندو ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں پوری شدت کے ساتھ ابھر کر آیا۔ میرے خیال میں ہر اس قاری کو جو ’’تنہائی کے سو سال‘‘ پڑھ چکا ہے یا پڑھنا چاہتا ہے، پہلے ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ بہت اہم ہے اس اعتبار سے بھی کہ یہ اس زمانے میں لکھا گیا جب مارکیز کے معاشی حالات خراب تھے۔ وہ جس ہوٹل میں آکر ٹھہرتا تھا، کبھی کبھی اس کے کمرے کا کرایہ دینے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ ہوٹل کے مالک کے پاس ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا مسودہ بطور ضمانت رکھوا دیا کرتا تھا اور ہوٹل کا مالک اس بات سے واقف تھا کہ مارکیز کے لیے ان کاغذوں کی بہت اہمیت ہے۔
مارکیز کا مخصوص اسلوب یا تکنیک، جادوئی حقیقت نگاری اس ناول میں بھی موجود ہے، مگر اتنی نہیں جتنی ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں نظر آتی ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ میں جادوئی حقیقت نگاری سے زیادہ حقیقت کا جادو نظر آتا ہے، جو اور بھی بڑی بات ہے۔
انعام ندیم ہمارے عہد کے نمایاں ترین اور بےحد اہم شاعر ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ناقابلِ یقین حد تک ایک اعلیٰ درجے کے مترجم بھی ہیں۔ اس ناول سے پہلے وہ مارکیز کی تمام کہانیوں کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے بالزاک کے مشہور ناول ’’ایک تیس سالہ عورت‘‘ اور ربی سنکربل کے ناول ’’دوزخ نامہ‘‘ کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ میورئیل موفروئے کے ناول کا بھی ’’دخترِ رومی‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔ فکشن اور بالخصوص عالمی فکشن پر انعام ندیم کی نظر بہت گہری ہے اور وہ فکشن کے بہترین پارکھ ہیں۔ اسی لیے ان کے ترجموں کا معیار بہت بلند ہوتا ہے۔ کسی بھی مترجم کے لیے سب سے مشکل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ متن میں پوشیدہ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے کس طرح دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے میری مراد الفاظ یا جملے اور ان کی ساخت نہیں ہے، نہ ہی ثقافتی پس منظر ہے۔ ناقابلِ ترجمہ عناصر سے میری مراد لفظوں کی مخصوص گونج، لَے، لہجہ اور ان کے حسی ارتعاشات ہیں۔ کسی بھی متن میں معنی اتنے اہم نہیں ہوتے (کہ ان تک تو ٹیڑھا میڑھا ترجمہ کر کے بھی پہنچا جاسکتا ہے)، بلکہ معنی تک پہنچنے والے راستے اہم ہوتے ہیں اور مارکیز کے یہاں تو سب سے زیادہ اہمیت ان راستوں ہی کی ہے۔ اس کے فکشن کا سارا جوہر یا رمز لفظوں کی انھیں گونج، احساس اور لَے میں پوشیدہ ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ میں ان بظاہر ناقابلِ ترجمہ عناصر کو جس خوبی کے ساتھ انعام ندیم نے اُردو میں منتقل کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ترجمے کا مطلب ایک زبان ہی نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک کلچر اور ایک روایت کو دوسری جگہ منتقل کرنا ہے۔ گویا ایک دنیا کو دوسری دنیا میں لے جانا۔ انعام ندیم نے یہ مشکل کام بھی کر کے دکھایا ہے، مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ترجمہ ہمیشہ اصل تخلیق کے برابر کے معیار کا ہونا چاہیے اور ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ جس بلند معیار کا حامل ناول ہے، انعام ندیم کا ترجمہ بھی اسی بلند معیار کا ہے۔ ’’پت جھڑ کا طوفان‘‘ کا اُردو میں ترجمہ کرنے کے باوصف انعام ندیم نے دراصل اُردو زبان کے نئے امکانات بھی منکشف کیے ہیں۔ اس طرح ان کا یہ ترجمہ ایک نئی تخلیق بھی کہا جا سکتا ہے۔
میں انعام ندیم کو ان کے اس کارنامے کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
(خالد جاوید)

Book Attributes
Pages 158

Write a review

Note: HTML is not translated!
Bad Good
Tags: translated