Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Wazir e Azam - وزیراعظم

Wazir e Azam - وزیراعظم
Wazir e Azam - وزیراعظم
Wazir e Azam - وزیراعظم
Wazir e Azam - وزیراعظم
-17 %
Wazir e Azam - وزیراعظم
Wazir e Azam - وزیراعظم
Wazir e Azam - وزیراعظم
Wazir e Azam - وزیراعظم
Wazir e Azam - وزیراعظم
  • Writer: Ashraf Shad
  • Category: Novels 
  • Pages: 478
  • Stock: In Stock
  • Model: STP-11356
  • ISBN: 969-35-3735-1
Rs.4,000
Rs.4,800

پاکستان میں سیاسی منظر نامہ اس تیزی سے بدلتا ہے کہ آج کی کہانی آج لکھنا ایک مشکل کام ہے۔ ’’وزیراعظم‘‘ لکھنے کے دوران دو وزیراعظم بدلے تھے۔ لیکن آج کے پاکستان کی یہ کہانی سیاسی تاریخ لکھنے کی کوشش نہیں ہے۔ اس لیے اسے پڑھتے ہوئے تاریخ کی غلطیاں نہ نکالی جائیں۔ دراصل یہ سیاسی ناول ہے بھی نہیں۔ اس کی کہانی نے انسانی رشتوں کی نزاکتوں کو ساتھ لے کر روایتی ناول کے اتار چڑھائو طے کیے اور بہت سے جذباتی موڑ کاٹے ہیں۔ اس کے کردار عشق ومحبت کا کھیل بھی کھیلتے ہیں لیکن یہ کردار سیاست کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اس لیے دو ستیاں اور رشتے نباہنے اور عشق و محبت کا کھیل کھیلنے کا ان کا اپنا الگ انداز ہے۔ یہ انداز آپ کو پسند آئے یا نہ آئے قدم قدم پر آپ کو حیران ضرور کر دے گا۔

میرا پہلا ناول ’’بے وطن‘‘ شائع ہوا تو کہا گیا تھا کہ بقول میرا جی ایک ناول ہر شخص کے اندر ہوتا ہے، وہ باہر آگیا ہے۔ گزشتہ سال جب ’’وزیراعظم‘‘ طباعت کے لئے تیار ہو کر پاکستان پہنچا تو دوستوں نے آسٹریلیا کی اس پر سکون فضا کو سراہا جہاں بیٹھ کر فی برس ایک ضخیم ناول لکھنا آسان ہے۔ یہ بات اس حد تک صحیح ہے کہ آسٹریلیا کی نیلی اور برفانی پہاڑیوں اور جھیلوں سے مزین سرسبز وادیوں میں گہرا سکون اور اطمینان ہے۔ بہت سے جنت نشان مقام ایسے ہیں جو مجھ جیسے عام انسان کی بھی پہنچ اور دسترس میں ہیں لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں لفظوں کی نقاشی اور ان کی مرمت کا کام خاموش فضائوں میں بیٹھ کر نہیں کر سکتا۔ ابتدائی برسوں میں میری تخلیقی سرگرمیوں کا مسکن یونیورسٹی آف نیو سائوتھ ویلز کا وہ کیفے تھا جو نو عمر طلبہ سے بھرا ہوتا اور جہاں باتوں، نعروں، قہقہوں اور سسکاریوں کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔’’بے وطن‘‘ میں کیفے اسیمیں کا بار بار تذکرہ آیا ہے ، جہاں بیٹھ کر میں نے ایک تحقیقی مقالہ اور اپنے دو ناول تحریر کیے تھے۔ یہ کیفے یونیورسٹی کی چودہ منزلہ لائبریری کے بالکل سامنے واقع ہے جس کی وجہ سے تحقیقی کتب تک رسائی آسان رہتی ہے۔ ناول میں دیے گئے ایک ایک حوالے کی صحت جانچنے کے لیے کئی کئی کتابیں نچوڑی ہیں، وہیں بیٹھ کر نوکر شاہی کی پوری تاریخ کھنگالی ہے اور مقامات کا جغرافیہ درست رکھنے کے لیے بھی اکثر اسی کتب خانے کی مدد لی ہے لیکن یہ خیال رکھا ہے کہ تحقیق کابہائو ناول کی سمت تبدیل کرکے اسے گراں نہ کر دے۔

’’وزیراعظم‘‘ کا مرکزی کردار ایک صحافی ہے۔ اس لیے اکثر دوست اس میں میرا چہرہ دیکھنے کی کوشش کریں گے۔’’بے وطن‘‘ کو بھی صرف اس کے نام کی وجہ سے پڑھے بغیر میرا سوانحی ناول کہہ دیا گیا تھا۔ایک زمانہ تھا جب میں نے بے وطنی کے عذاب جھیلے تھے لیکن ’’بے وطن‘‘میری کہانی نہیں تھی۔ اسی طرح ’’وزیراعظم‘‘ کا ذہین جلالی بھی میں نہیں ہوں۔ میں نے کہانیوں کو ان کے اندر اور کبھی باہر بیٹھ کر دیکھا سنا اور بیان کیا ہے لیکن خود کو کہانی نہیں بنایا۔ لہٰذا ’’وزیراعظم‘‘ کو آپ بیتی یا بقول یوسفی صاحب ’’پاپ بیتی‘‘ سمجھنے کے بجائے ایک ناول اور ایک افسانوی تخلیق سمجھ کر پڑھیے اور جیسا کہ میں نے کتاب کے آغاز میں لکھ دیا ہے، کوئی واقعہ یا کردار سچا لگنے لگے تو اسے اتفاق یا مصنف کی تخلیقی کوششوں کا کمال سمجھیے گا۔

Book Attributes
Pages 478

Write a review

Note: HTML is not translated!
Bad Good