Menu
Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Anarkiat Ki Alif Bay - انارکیت کی الف بے

Anarkiat Ki Alif Bay - انارکیت کی الف بے
Anarkiat Ki Alif Bay - انارکیت کی الف بے
Anarkiat Ki Alif Bay - انارکیت کی الف بے
New -25%
Anarkiat Ki Alif Bay - انارکیت کی الف بے
Anarkiat Ki Alif Bay - انارکیت کی الف بے
Anarkiat Ki Alif Bay - انارکیت کی الف بے
Anarkiat Ki Alif Bay - انارکیت کی الف بے
Rs.600
Rs.800

Urdu Translation of ABC's Of Anarchism

Translated By Zafar Jamal


انارکیت کی الف بے

پیش لفظ از مصنف

میں انار کیت کو سماجی زندگی میں آزادی اور ہم آہنگی کے لیے ایک معقول ترین اور عملی ترین تصور سمجھتا ہوں۔ میں مکمل طور پر قائل بھی ہوں کہ بنی نوع انسان کی نمو اور ترقی کے دوران اس کا ادراک ایک یقینی امر ہے۔

اس ادراک کا وقت دو عوامل پر منحصر ہو گا، اول یہ کہ موجودہ حالات کتنی جلد روحانی اور مادی طور پر ، انسانوں کے ایک غالب حصے کے لیے نا قابل برداشت ہو جائیں گے ، خاص طور پر محنت کش طبقے کے لیے۔ اور دوم، کس حد تک ان انارکسٹ نظریات کو سمجھا اور قبول کیا جا چکا ہو گا۔

ہمارے سماجی ادارے مخصوص تصورات پر کھڑے ہیں۔ جب تک ان تصورات کو عمومی اعتماد حاصل ہے، ان پر استوار ہونے والے ادارے بھی محفوظ ہیں۔ حکومت مضبوط رہتی ہے کیونکہ لوگ سیاسی اتھارٹی اور قانونی جبر کو لازم تصور کرتے ہیں۔ سرمایہ داری اس وقت تک قائم و دائم رہے گی جب تک اس طرح کے معاشی نظام کو موزوں اور منصفانہ سمجھا جائے گا۔ ان نظریات کے جو موجودہ دور کے شیطانی اور جابرانہ حالات کو قوت فراہم کرتے ہیں، کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ حکومت اور سرمایہ داری حتمی پر تحلیل ہو جائیں گے۔ ترقی ان نکات پر مشتمل ہے کہ زندگی میں فرسودہ ثابت ہونے والے معاملات رو بھی کر دیئے جائیں اور ان کے متبادل موزوں ترین حالات پیدا کیے جائیں۔

سرسری طور پر مشاہدہ کرنے والے فرد کو بھی آگاہ ہونا چاہیے کہ سماج اپنے بنیادی تصورات کے حوالے سے ایک شدید نوعیت کی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ عالمی جنگ اور روس کا انقلاب اس کے بنیادی اسباب ہیں۔ جنگ نے سرمایہ دارانہ مسابقت کے شیطانی کردار اور حکومتوں کی، قوموں یا حکمران مالیاتی گروہوں" کے درمیان تنازعات ختم کروانے کی قاتلانہ نا اہلی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کا پرانے طریقوں سے اعتماد ختم ہو رہا ہے اور اب بڑی طاقتیں بھی ہتھیاروں کی حد بندی اور جنگ تک کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے بھی بات کرنے پر مجبور ہیں۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اس طرح کے امکان کی تجویز کو شدید حقارت اور طنز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 

اسی طرح دیگر معتبر اداروں پر یقین بھی دم توڑ رہا ہے۔ ابھی تک سرمایہ داری سے معاملات چلائے جارہے ہیں لیکن اس کی مصلحت کوشی اور انصاف کے مسائل مزید سماجی حلقوں میں اذیت کا سبب رہے ہیں۔ انقلاب روس نے ایسے تصورات اور احساسات کو فروغ دیا ہے جو سرمایہ دارانہ سماج کو جڑوں سے کمزور کر رہے ہیں، خاص طور پر اس کی معاشی بنیادوں اور سماجی بقا کے لیے نجی جائیداد کا " تقدس" جیسے تصورات کو، کیونکہ اکتوبر کی تبدیلی صرف روس میں ہی نہیں ہوئی، اس نے دنیا بھر کے عوام کو متاثر کیا ہے۔ ہر دل عزیز یہ وہم کہ " جو موجود ہے، وہی مستقل بھی ہے " کو اس طرح جھٹکا گیا ہے کہ اب اس کا احیا ممکن نہیں نظر نہیں آتا۔

انقلاب روس ، جنگ اور بعد از جنگ کی پیشرفت نے مل کر سوشلزم کے بارے میں بھی ایک بڑے پیمانے پر نا امیدی پھیلائی ہے۔ یہ بات حرف بہ حرف سچ ہے کہ عیسائیت کی طرح سوشلزم نے بھی اپنی شکست سے دنیا فتح کی ہے۔ سوشلسٹ پارٹیاں اب زیادہ تر"۔۔۔




Book Attributes
Pages184

Write a review

Note: HTML is not translated!
Rating
Bad Good
Captcha