Menu
Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Do Shehro Ki Kahani (Premium Edition) - دو شہروں کی کہانی

Do Shehro Ki Kahani (Premium Edition) - دو شہروں کی کہانی
Do Shehro Ki Kahani (Premium Edition) - دو شہروں کی کہانی
New -30%
Do Shehro Ki Kahani (Premium Edition) - دو شہروں کی کہانی
Do Shehro Ki Kahani (Premium Edition) - دو شہروں کی کہانی
Do Shehro Ki Kahani (Premium Edition) - دو شہروں کی کہانی
Rs.1,400
Rs.2,000

انقلابِ فرانس، لندن اور پیرس دو شہروں کی کہانی دراصل دو طبقوں کی کہانی ہے۔ ایک وہ طبقہ ہے جس کے تیز رفتار چھکڑے تلے مفلوک الحال ماں باپ کا بچہ مرتا ہے تو وہ چھکڑے سے اترنے کی زحمت کیے بغیر، اس نقصان کی تلافی کی غرض سے کچھ سکے باہر اچھال دیتے ہیں۔ دوسرا طبقہ ان ماں باپ کا ہے جن کے لختِ جگر کی بےوقت اور بےرحمانہ موت کی تعزیت چند سِکوں کی بھیک سے کی جاتی ہے۔ لیکن کتابوں میں لکھا ہے اور عرب سپرنگ میں ہم نے دیکھا ہے کہ ظلم برداشت کرنے کی ایک حد ہوتی ہے اور جب ناآسودہ عوام ہجوم در ہجوم ایک دریا کے مانند جھوم کر نکلتے ہیں تو اشرافیہ کے حفاظتی بند تنکوں سے بھی کمزور ثابت ہوتے ہیں اور مست دریاؤں کا قہر ٹالنے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ سکہ جو چھکڑے سے باہر اچھالا گیا تھا، باہر سے کوئی بدمست اس خیرات کو توہین آمیز انداز میں دوبارہ چھکڑے کے اندر اچھال کر قاری کو بتاتا ہے کہ فرانس کے عوام کی برداشت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

دوشہروں کی کہانی

انقلاب فرانس پر شاہکار تحریر

مصنف | چارلس ڈکنز

چارلس ڈکنز کا نام آج ساری دُنیا میں ایک گھریلو نام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ناول سارے عالم میں پڑھے جاتے ہیں۔ اس کی ناولوں کے تراجم دُنیا کی ہر زبان میں ہوئے، ان پر ڈرامے لکھے گئے اور انھیں سٹیج کیا گیا۔ ان پر فلمیں بنائی گئیں اور ٹی وی کے لیے ڈراموں کو ٹیلی پلے کی شکل دی گئی۔ وہ دُنیا کے چند بڑے اور مقبول ترین لکھنے والوں میں سے ایک ہے۔ رابرٹ مورسے نے اسے شیکسپیئر اور دانتے کا ہم پلہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتا ہے کہ دانتے اور شیکسپیئر کی طرح ’’Dickens is everything for everyone. He has same thing for every body.‘‘
اس کے ناولوں میں اس کے قاری کو اپنے مطلب اور دلچسپی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور مل جاتا ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جس کے حوالے سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا تخلیقی ناول کون سا ہے۔ ’پسند اپنی اپنی کی‘ کے معیار کی بات ہی تو ادب میں نہیں چلتی۔ یہاں تو ان تمام عناصر کو دیکھنا پڑتا ہے جن کی بدولت کوئی بڑی تخلیق قرار پاتی ہے اور پھر اس میں ایسے جراثیم کو بھی تلاش کرنا پڑتا ہے جو اسے ابد تک زندہ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ڈکنز کے ناولوں میں ’’پک وِک پیپرز‘‘ کو دُنیا کے پُر لطف اور مزاحیہ کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’’Great Expectations‘‘، ’’Oliver Twist‘‘، ’’David Copperfield‘‘ اور ’’A Tale of Two Cities‘‘ ایسے ناول ہیں جن کی مقبولیت یکساں ہے اور جو ڈکنز کو زندہ رکھنے میں کبھی ناکام نہ رہیں گے۔
ڈکنز کو اپنے زمانے میں جو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ وہ اس زمانے میں ابھرتے ہوئے متوسط طبقے کا ترجمان بن گیا تھا۔ وہ اپنے عہد کا نقّاد بھی تھا اور رہنما بھی۔ وہ سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا۔ کم سن بچوں پر ظلم وستم، کم سن بچوں کی ملازمت، قرضے کی ادائیگی نہ کرنے پر سزائے قید، پاگل خانوں اور ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں کی حالت زار، غربت، قانونِ فوجداری کے نقائص اورسب سے بڑھ کر اس دور میں بچوں کی حالتِ زار، یہ ایسے موضوعات تھے جواس زمانے کے مسائل سے تعلق رکھتے تھے اور آج بھی عالمگیر تاثیر کے حامل ہیں۔
ڈکنز کے ناولوں کی جڑیں اٹھارہویں صدی سے انگلستان کے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ چونکہ تیسری دُنیا کے مسائل آج بیسویں صدی میں بھی وہی ہیں، اس لیے اس کے ناولوں کی اپیل میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی۔
اس کے باوجود ڈکنز بہت بڑا Entertainer بھی تھا۔ والٹر ایلن نے تو اسے فکشن کی دُنیا کا سب سے بڑا انٹرٹینر قرار دیا ہے۔ اس کی کوئی کتاب پڑھ لیجیے، اس میں مزاح کا ایک ایسا قوی اور جاندار عنصر شامل ہوتا جو اپنے قارئین کو بے انتہا محظوظ کرتا ہے۔
ڈکنز ایک بڑے مصلح کی بھی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ اپنے ناولوں کے ذریعے سماجی اور معاشرتی اصلاح کا علمبردار تھا۔ اس میں یقیناً اسے بہت کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے ناولوں کی دُنیا جہاں پر یوں کی کہانیوں کی دُنیا تھی وہاں دہشت ناک خوابوں کی بھی دُنیا تھی۔ اس کے بیشتر ناولوں میں کہانی بچے بیان کرتے ہیں۔ وہ بچوں کی نگاہ سے ہمیں یہ دُنیا دکھاتا ہے۔ اس طرح اس دُنیا کی بدصورتیاں بچوں کی معصومیت سے ملوث ہوکر کہیں زیادہ خوفناک لیکن مؤثر صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
ڈکنز کے ناولوں کے کردار ایسے ہیں کہ وہ ناول کے واقعات پرحاوی ہو جاتے ہیں۔ ہم اس کے ناولوں کا پلاٹ بھول سکتے ہیں لیکن اس کے کرداروں کو اپنے حافظے سے باہر نہیں نکال سکتے۔
ستار طاہر
ماخذ ’’دنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘

Book Attributes
Pages480

Write a review

Note: HTML is not translated!
Rating
Bad Good
Captcha
Tags: translated