کہا جاتا ہے کہ جرمن زبان میں آج تک ’’ورتھر‘‘ جیسی شہرت و مقبولیت اور کسی کتاب کو نصیب نہیں ہوئی اور نہ کسی ملک کی کسی ادبی تصنیف نے آج تک اتنی جلدی ..
محمد اقبال دیوان کو میں نہیں جانتی تھی۔ بھلا ہو ’’سویرا‘‘ جیسے خوبصورت ادبی پرچے کا جس میں اُن کی کہانی پڑھی۔ کہانی تھی کہ جس نے مجھے جٹ جپّھا ڈال لیا..