Menu
Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Free Mesenz Aur Dajjal - فری میسنز اور دجال

Free Mesenz Aur Dajjal - فری میسنز اور دجال
Free Mesenz Aur Dajjal - فری میسنز اور دجال
Free Mesenz Aur Dajjal - فری میسنز اور دجال
-25%
Free Mesenz Aur Dajjal - فری میسنز اور دجال
Free Mesenz Aur Dajjal - فری میسنز اور دجال
Free Mesenz Aur Dajjal - فری میسنز اور دجال
Free Mesenz Aur Dajjal - فری میسنز اور دجال
Rs.1,350
Rs.1,800

مجھے یقین ہے کہ ہر ہوش مند فرد کو اس بات پر حیرت ہے کہ دنیا میں اتنی نا انصافی کیوں ہے؟ بالخصوص مسلمان کمزور اور دبے ہوئے کیوں ہیں ؟ وہ پاگلوں کی طرحایک دوسرے سے دست وگریباں کیوں ہیں ؟ آخر کیوں مغربی ممالک امن وسکون میں ہیں؟ کیا مغرب کو دانش عطیہ کر دی گئی ہے؟ کیا اسلام متروک ہو چکا ہے اور ہمیں اپنی روز مرہ زندگی سے اسلام کو الگ کر دینا چاہیے ؟ اور کیا سیکولر ازم ہی تمام مسائل کا حل ہے؟

ان سوالات کا جواب گذشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ میں پوشیدہ ہے ۔ حقیقی تاریخ ایک مختلف تناظر کے ساتھ ۔ وہ تناظر جو کبھی روشنی میں نہیں لایا گیا اور اگر کبھی لایا بھی گیا ہے تو انتہائی محدود پیمانے کے ساتھ ۔ یہ تحقیق اس نقطہ نظر سے کی گئی ہے کہ سازش کو بے نقاب کیا جائے ۔ اس لیے کہ اصل سازش اتنی بڑی اور اتنی گہری ہے کہ لوگوں کو اس کا اندازہ ہی نہیں ۔

اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اچانک مجھ پر منکشف ہوئی ہے اور میں راتوں رات اس سے آگاہ ہو گیا ہوں ۔ اور بہت سے لوگ اس سازش کی حقیقی نوعیت سے آگاہ ہیں ۔ خاص طور پر اعلیٰ سطح کے عمائدین مملکت، قائدین وزراء وزراء اعظم اور سربراہان مملکت ۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی ذہنی تعمیر کی جاچکی ہے یا پھر وہ اس کا حصہ ہیں، استثنا بہر حال موجود ہے۔ ان مستثنیٰ لوگوں کو کبھی موقع نہیں ملا کہ وہ مفسد افراد کو نکال باہر کریں کیونکہ ان مفسدین کے ہاتھوں میں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے وہ عوام الناس کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں اور اس کھیل کا نام انہوں نے جمہوریت“ رکھا ہوا ہے۔ اس تحقیقی کام کے ابواب اس طرح تشکیل دیے گئے ہیں کہ پڑھنے والوں کو آسانی سے سمجھ آسکے کہ کسی طرح کب اور کہاں نام نہاد جدید تاریخ کی ابتدا اور نشو و نما ہوئی جو اب خود کو بنی نوع انسان کی ضرورت بنا کر پیش کرتی ہے۔

اس تحقیقی کام کا مقصد ان ڈھانچوں کو بے نقاب کرنا ہے جنہوں نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ انہوں نے خدا کے دیئے ہوئے قانون کو شکست دینے اور اسے تبدیل کرنے کے لیے منظم طریقے، زمانی اعتبار سے ایک کے بعد دوسرے اذیت ناک اقدام سے جینیاتی طور پر اور استقامت کے ساتھ کوششیں کی ہیں تاکہ تاریکی کے دیوتا کا راستہ ہموار کیا جائے ۔ یہ تاریکی کا دیوتا مسیح کا دشمن ہے۔ اسے اسلامی دنیا میں دجال کے نام سے اچھی طرح جانا جاتا ہے۔

میں نے یہ تحقیقی کام اخلاص نیت کے ساتھ اس سازش کو مسلمانوں کے سامنے لانے کے مقصد سے کیا ہے جو 1095 ء میں شروع ہوئی ۔ اس سازش نے انسانی زندگی کے ہر اس شعبے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے جس پر خدائی قوانین کا اطلاق ہونا چاہیے۔ یہ منصوبہ ایک مہلک زہر یلے گروہ نے تیار کیا جو نائٹس کے روپ میں ابھرا اور اپنے منصوبہ پر اب اس طرح عمل پیرا ہے جس طرح "خاکی وردی والے لوگ مستعد ہوتے ہیں ۔ ان کا مقصد لوگوں کو خدا کے راستے سے منحرف کر کے شیطان کے غیر انسانی راستے پر گامزن کرنا ہے۔ تا کہ انہیں ٹھیک وہ موزوں حالات میسر آ جائیں جن میں امسیح الکذاب الدجال کی آمد ممکن ہو سکے ۔  

انہوں نے اپنا ہدف کیسے حاصل کیا اور اگر پوری طرح حاصل نہیں کیا تو اس کے قریب تر کیسے پہنچے ہیں؟ یہ ہماری تحقیق کے مقاصد ہیں ۔ اس سلسلے میں حوالے کے طور پر میں نے جتنی کتابیں استعمال کی ہیں ان میں چند ایک کے سوا بقیہ بھی فری میسنز کی تحریر کردہ ہیں ۔ یہ بات انہیں کوئی موقعہ فراہم نہیں کرتی کہ وہ ان واقعات کو تسلیم نہ کریں اور نتائج کی ذمہ داری سے پہلو تہی کریں۔ میں ایمانداری سے امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب پڑھنے والا ہر مسلم اور غیر مسلم مستفید ہوگا ۔ اس کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ پورے معاشرے پر غالب آنے والے خطرات کی سنگینی دیکھ سکے گا۔

وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے کہ جب ہم کچھ کر سکنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ہم نیو ورلڈ آرڈر کے شکنجے میں بُری طرح جکڑے جائیں گے جو ہماری طرف عیاری اور خاموشی سے مسلسل بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن ابھی بھی وقت ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ شیطانی نظام پوری طرح مسلط ہو جائے، ہم سنبھل سکتے ہیں ۔ یہ وقت بیدار ہونے کا ہے۔ ابھی بیدار ہو جائیے اس سے پہلے کہ ہم نیند کے دوران ہمیشہ کی نیند سلا دیے جائیں۔

خلوص کے ساتھ

کامران رعد



Book Attributes
Pages460

Write a review

Note: HTML is not translated!
Rating
Bad Good