’’یہ (میری یادوں کے چنار) کرشن چندر کی رُوح میں اترنے اور ان کے فن کی بلندی کو چھونے کے لیے ایک زینہ ہے۔ یادداشت اور افسانے کا حسین امتزاج ہے اور بےسب..
کمال!کاوش صدیقی کی تحریر پڑھ کے بے ساختہ یہی جملہ منہ سے نکلتا ہے۔ چٹکی لیتے مکالمے گویا ہاتھ باندھے قطار در قطار چلے آ رہے ہیں۔ کہیں نہیں لگتا کہ صو..