کردار نگاری کے جوہر کے سوتے کردار شناسی سے پھوٹتے ہیں اور کردار نگاری کا بنیادی مقصد کردار سازی ہے۔ قوموں کی زندگی کا انحصار اس کے ان سپوتوں پر ہوتا ہ..
خواجہ صاحب اپنی خود نوشت بارے پس ورق پر لکھتے ہیں:مجموعی طور پر میری ذاتی زندگی خوشگوار رہی ہے ضرورت سے زیادہ مادی وسائل کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوئی۔..