



- Writer: Molvi Tamizuddin Khan
- Category: Biography
- Pages: 456
- Stock: In Stock
- Model: STP-15798
مولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بتانا ضروری ہے کہ کبھی ہم میں سے کسی نے سیاسی اداروں کی حرمت بچانے کی جنگ لڑی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا ازحد مشکل ہے کہ اس ملک میں اسمبلیاں ٹوٹنے کی داستان زیادہ خونچکاں ہے یا ملک ٹوٹنے کی۔ زیرِنظر کتاب بظاہر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر مولوی تمیز الدین خان کی سیاسی سوانح عمری ہے، مگر بین السطور یہ اس زمین میں جمہوری اداروں کے پروان چڑھنے اور اس وقت کے سیاسی رویوں کے اظہار کی تاریخی دستاویز بھی ہے، جس کو پڑھنے کے بعد دسمبر 71ء کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔ میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں 'نظریۂ پاکستان' کی حفاظت کی تھی۔ 25 مارچ 1971ء کی صبح تھی۔ ڈاکٹر نور الہدیٰ نمازِ فجر سے فارغ ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ڈھاکا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اورآفیسرز کوارٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اس وقت فوجی جوان ان کے گھر آ دھمکے اور نہایت درشتی کے ساتھ ان کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتانے کے بعد کہا،’میں ایک بنگالی مسلمان ہوں۔‘ فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا،’کیا کوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟‘ اس کے بعد انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا۔ اسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کو بچانے کے لیے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ فوجیوں نے گھر کے اندر باہر، ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی۔ پھر افرادِخانہ کو خوف و ہراس اور شدید روحانی اذیت میں مبتلا چھوڑ کر چلے گئے۔ آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افرادِ خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف دہ یادیں اپنی پوری شدّت کے ساتھ موجود ہیں۔
یہ ڈاکٹر نورالہدیٰ (زیرِ نظر کتاب کے مرتب) مولوی تمیز الدین خان کے داماد تھے جنھوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑی، جو قائداعظم کے معتبر ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے اور جو قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی کے پہلے نائب صدر اور قائداعظم کے انتقال کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ غلام محمد کے ہاتھوں اسمبلیوں پر شب خون مارنے کا قابلِ نفرین کھیل کھیلا گیا تو مولوی صاحب نے معزول اسمبلی کے معزول صدر کی حیثیت سے برسرِاقتدار حکمرانوں سے جمہوریت کو بچانے کے لیے مقدمہ لڑنے کی جراَت کی۔ یقیناً آج کی سیاسی روایت میں مولوی صاحب کی یہ مزاحمت مضحکہ خیز عمل معلوم ہو گی۔
مولوی صاحب دنیا میں نہیں رہے، لہٰذا پاکستان بنانے اور پھر اسے سیاسی طور پر قائم رکھنے کا جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا ان کی اولاد کو دینے کی کوشش کی گئی۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی صاحبزادی بتاتی ہیں کہ وہ 71ء کے فوجی ایکشن کے دوران اپنے چھ بچّوں سمیت ڈھاکا میڈیکل کالج کے ایک کمرے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں جہاں ان کی بیٹی جونیئر ڈاکٹر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک لوہے کی چارپائی تھی۔ لہٰذا ان میں سے اکثر نے رات ننگے فرش پر گزاری۔ کچھ عرصہ بعد فوج نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور سارا گھر تہہ و بالا کر دیا۔ صحن کھود ڈالا بلکہ مولوی صاحب کے نوجوان نواسے شہودالرحمٰن کو جو اس زمانے میں ایسٹ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں انجینئر تھا، ساتھ لے گئے۔ ان کے گھر کی دیوار پر قائداعظم اور مولوی تمیز الدین خان کی تصویر دیکھ کر فوجی افسر نے معذرت کی کہ اسے مولوی صاحب کے نواسے کو گرفتار کرنا پڑ رہا ہے۔ مولوی صاحب کا نواسہ تیج گائوں تھانہ ڈھاکا کے ایک نہایت مختصر سے کمرے میں پچاس دوسرے نوجوان قیدیوں کے ساتھ پانچ دن تک رکھا گیا۔ بمشکل تمام ایک معقول رقم کے عوض اس کی رہائی عمل میں آئی۔
بحیثیت پاکستانی قوم ان واقعات پر کسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے آج اس لیے بھی زیادہ شرم محسوس ہوتی ہے کہ عوامی امنگوں پر پائوں دھرتے ہوئے اقتدار کی مسند تک پہنچنے والوں نے یہ کھیل مسلسل جاری رکھا۔
| Book Attributes | |
| Pages | 456 |



-250x250h.jpg)
