Menu
Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Salam Skardu - سلام سکردو

Salam Skardu - سلام سکردو
Salam Skardu - سلام سکردو
New -20%
Salam Skardu - سلام سکردو
Salam Skardu - سلام سکردو
Salam Skardu - سلام سکردو
Rs.1,750
Rs.2,200

پچھلی شب میں نے خواب میں دیکھا کہ حشوپی کے سیبوں کے باغ کا اخروٹ کے تختوں سے تراشا ہوا،برفوں سے شکستہ ہوتا ہوا پھاٹک دھیرے دھیرے کُھل رہا ہے.اور اُس کے اندر سے پکے ہوئے سیبوں اور خوبانیوں کی خمار آلود مہک چلی آرہی ہے اور اس مہک میں آمیزش ہے غشپ پرندوں کے چہچہانے کی اور یوں خوشبو اور چہکار کی ایک سمفنی میرے کانوں میں ایک مدھ بھرا جام اُنڈیل رہی ہے.. اس سمفنی کے پس منظر میں دریائے برالڈو کے پانیوں کی سرگوشیاں بھی سُنائی دے رہی ہیں..پچھلی شب میں نے خواب میں اشکولے کے کوّگھروندے کی ایک سالخوردہ کھڑکی کے پَٹ ہولے ہولے ُکھلتے دیکھے.. ایک سرگوشی ہوئی’’ہیلو‘‘ عمر رسیدگی میرے کانوں کے پردوں کو ایک قدیم مخطوطے کے اوراق کی مانند خستہ کررہی تھی، مُجھے کم سُنائی دیتا تھا اور اس کے باوجود مُجھے وہ ’’ہیلو‘‘ سُنائی دے گیا اس لئے کہ میں خواب میں ہوں اور خواب عُمر کے زوال سے آشنا نہیں ہوتے، اُن میں آپ کے تمام حواس نوخیزی کی کونپلوں کی مانند کنوارے رہتے ہیں..پچھلی شب میں نے اشکولے سے طویل برفانی مسافتوں کے بعد برف کی جھیل میں سے اُبھرے ہوئے درہ ہیسپر کو خواب میں دیکھا.. میں اُس کی برفیلی بلندی پر کھڑا ہوں اور میرے قدموں تلے نشیب میں سنوسلیک کا پھیلاؤ ہے، شفاف منجمد آسمان پر ایک ماہتاب ٹھٹھرتا تھا اور اُس کی ٹھٹھرتی ہوئی کرنیں تاحد نظر پھیلی ہوئی سنولیک پر بچھتی چلی جاتی ہیں.. اور درہ ہیسپر کی بلندی سے میں نے نیچے دیکھا تو چاندنی میں نہائی ہوئی برف کی جھیل پر ایک خیبر سوزوکی چلی آرہی ہے..دروازہ کُھلتا ہے، میمونہ کار سے باہر آکر اوپر میری جانب نگاہ کرتی ہے..تم یہاں کیا کررہے ہو، آؤ گھر چلیں..
اور خپلو کے قدیم قلعے کا موسموں کی شدتّوں کا مارا ہوا پھاٹک چرچراتا ہوا کُھلتا جاتا ہے پچھلی شب میں نے خواب میں دیکھا..اور اِک باغ ہے اُسی خواب میں کسی خیال میں جس کے چیری کے درختوں پر بُلندی سے دُھند اتر رہی ہے اور اُن درختوں کے گیلے تنے گھنی خود رو گھاس میں سے بُلند ہورہے ہیں..چیری کے سُرخ چہرے ٹپ ٹپ گرتے اُس ہریاول کچور گھاس میں گر کر دفن ہوجاتے ہیں، اُن میں سے کُچھ ایک برفانی نالی کے بہاؤ میں گر کر بہتے جاتے ہیں..اور ایک سفید سوہنا گھوڑا کھڑا ہے، تنی ہوئی کنوتیوں والا شاندار گھوڑا جس کے سُم گھاس کے گھنے پن میں روپوش ہیں.. بُلندی سے اترتی دُھند میں گھوڑے کے بدن کی سفیدی ُگھل جاتی ہے اور وہ پگھل کر برفانی نالی میں چیریوں کے ساتھ بہہ جاتا ہے..اور اس خواب کے اختتام پر خپلو کے قلعے کا کُھلا پھاٹک ہولے ہولے مُجھ پر بند ہوجاتا ہے.. آئندہ اٹھارہ بیس برس کے لئے..
پچھلی شب میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بھی سندباد جہازی کی مانند ایک جزیرے میں قید تھا، میں اس قید سے آزاد ہوناچاہتا تھا لیکن مُجھ میں سکت نہ رہی تھی، سند باد جہازی بہت بُوڑھا ہوگیا تھا.اور پھراُس جزیرے میں ایک جہازی سائز کا پرندہ اترتا ہے اور میں اپنے آپ کو اُس کے پنجوں سے باندھ لیتا ہوں اور وہ پرواز کرنے لگتا ہے.. مُجھے آزادی کی وادیوں کی جانب لئے جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ نیچے صحرا اور سمندر نہیں گزر رہے..برف زاروں کا ایک جہان ہے جو گزرتا جاتا ہے.. دنیا کی بلند ترین چوٹیاں برفوں میں ڈھکی گزرتی جاتی ہیں..ان برف زاروں کی وسعت میں ایک ہولناک ویرانی کا راج ہے اور میں خوفزدہ ہوجاتا ہوں.. اگر میں اس پرندے کے پنجے کی گرفت سے میں آزاد ہوجائوں، میرا بندھن ڈھیلا پڑ کے کُھل جائے تو کیا ہوگیا.اس برف کی سلطنت میں تنہا بھٹکتا پھروں گا،کبھی باہر نہ جاسکوں گا.. مُجھے ڈر لگنے لگتا ہے.. میرے اندر خوف بھر جاتا ہے.. اور اُس کیفیت میں مُجھے کُچھ آوازیں سُنائی دیتی ہیں جنہیں میں جانتا ہوں، کُچھ چہرے دکھائی دینے لگتے ہیں جن سے میں شناسا ہوں. تب میں اُس خواب سے جاگتا ہوں جو خواب نہیں تھا، حقیقت تھا.. اور میں واقعی اڑا جارہا ہوں لیکن سند باد جہازی کی مانند ایک جہازی پرندے کے پنجوں سے بندھا ہوا نہیں بلکہ ایک جہاز میں، جیٹ ہوائی جہاز میں دنیا کی سب سے حیرت ناک برفانی پرواز کا مسافر ہوں..
میں خواب میں نہیں حقیقت کے خمار میں ہوں..
میں سکردو جارہا ہوں..
میں لاہور سے براہِ راست سکردو جارہا ہوں.
ستاسی برس کی عمر میں بوڑھا داستان گو پھر سے پہاڑوں میں جارہا ہے..
"خواتین و حضرات تھوڑی دیر میں ہم سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے والے ہیں..براہ کرم سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے اور.."
پرندہ مُجھے جزیرے کی قید سے اٹھا کر لے آیا تھا...
بوڑھا اپنے پہاڑوں کے لئے اداس ہوچکا تھا..

Book Attributes
Pages205

Write a review

Note: HTML is not translated!
Rating
Bad Good