یہ صرف وہی جانتی ہے کہ کس کی روح جگنو ( شب چراغ ) کا روپ دھار کر سر شام حو یلی کے گر دمنڈلا نہ شروع کردیتی ہے ۔ یہحویلی یہاں پروان چڑھنے والی محبتوں ک..
کمال!کاوش صدیقی کی تحریر پڑھ کے بے ساختہ یہی جملہ منہ سے نکلتا ہے۔ چٹکی لیتے مکالمے گویا ہاتھ باندھے قطار در قطار چلے آ رہے ہیں۔ کہیں نہیں لگتا کہ صو..