میں آج اپنی زندگی کے آٹھویں عشرے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ زندگی کی برق رفتاری نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیوں کیا ہے؟ کہمیں نے سماج کے فرسودہ ریت و رواج ..
کمال!کاوش صدیقی کی تحریر پڑھ کے بے ساختہ یہی جملہ منہ سے نکلتا ہے۔ چٹکی لیتے مکالمے گویا ہاتھ باندھے قطار در قطار چلے آ رہے ہیں۔ کہیں نہیں لگتا کہ صو..