اگر میں یہ کہوں یہ کتاب کبھی نہ کبھی اُردو میں ایک کلاسک کا درجہ اختیار کرے گی تو ہوسکتا ہے بہت سارے لوگ میرے اس دعوے پر ہنس دیں۔ لیکن پتہ نہیں کیوں ا..
سجاد ظہیر کی شخصیت ان کی تمام چیزوں پر بھاری تھی۔ تحریر کو اگر ہم ان کے سیاسی کارناموں کے مقابلے میں لیں تو مجھے ان کی تحریریں زیادہ دلکش نظر آتی ہیں..