Menu
Menu
Your Cart
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پرنہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 03455605604 پر رابطہ کریں- شکریہ

Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش

Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
New -23%
Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
Khuda Ki Talash By Muhammad Suhail Zubairy - خدا کی تلاش
Rs.1,000
Rs.1,300

عقل ، وحی اور روحانی تجربےکی روشنی میں اسلامی فکر کا ارتقاء

خدا کی تلاش
محمد سہیل زبیری
آج میں نے سورج کے گرد 74 چکر مکمل کر لیے ہیں۔ یہ سفر علمی جستجو، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں سے بھرپور رہا ہے، اور خوشی کی بات یہ ہے کہ آج بھی اسی توانائی اور شوق کے ساتھ جاری ہے۔ آج بھی خود کو ایک نوجوان طالبِ علم کی طرح نئے سوال اٹھانے، ان کے جواب تلاش کرنے اور تحقیق کی نئی راہوں پر چلنے میں مصروف پاتا ہوں۔ زندگی کا بیشتر حصہ سائنس، خصوصاً طبیعیات، کو سمجھنے اور علم کی سرحدوں کو کچھ آگے بڑھانے کی کوشش میں گزرا ہے۔ آج اپنی سالگرہ کے موقع پر زندگی کے ایک نئے سنگِ میل کا ذکر کرتے ہوئے مجھے خاص خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

آج میری ایک نئی کتاب، ’’خدا کی تلاش ‘‘، منظرِ عام پر آ رہی ہے۔ یہ میری پہلی کتاب ہے جس میں موضوعِ بحث سائنس نہیں، بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو ہزاروں برس سے انسانی فکر کا مرکز رہا ہے: خدا کی حقیقت کیا ہے، اور انسان نے اسے سمجھنے کی کوشش کس طرح کی ہے؟

یہ کتاب تقریباً دو ہزار برس پر پھیلے ہوئے ایک غیر معمولی فکری سفر کی داستان ہے۔ اس کا آغاز قدیم یونانی فکر سے ہوتا ہے اور پھر اسلامی تہذیب کے ان بڑے مفکرین، فلسفیوں، متکلمین اور صوفیوں تک پہنچتا ہے جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں خدا کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ الکندی، الفارابی اور ابنِ سینا سے لے کر معتزلہ اور اشاعرہ، غزالی، ابنِ رشد، ابنِ عربی، ابنِ تیمیہ، ملا صدرا اور شاہ ولی اللہ تک، ہر دور نے اسی بنیادی سوال کو ایک نئے زاویے سے دیکھا اور اس کا اپنا جواب تلاش کیا۔

یہ کتاب کسی ایک جواب کو درست ثابت کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ ان مختلف جوابات کی فکری تاریخ ہے۔ انسان نے کبھی عقل کے ذریعے خدا تک پہنچنے کی کوشش کی، کبھی وحی کو رہنما بنایا، اور کبھی باطنی اور روحانی تجربے میں اس حقیقت کو تلاش کیا۔ انہی کوششوں، اختلافات اور بدلتے ہوئے تصورات کی داستان ’’خدا کی تلاش‘‘ کا موضوع ہے۔
ذیل میں کتاب کا دیباچہ پیش ہے، جو اس فکری سفر اور کتاب کے دائرۂ کار کو مزید وضاحت سے بیان کرتا ہے۔
محمد سہیل زبیری
پیش لفظ

انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور پائیدار سوالات میں ایک سوال خدا کے بارے میں ہے۔ جب انسان نے کائنات، زندگی اور موت پر غور کیا تو اس کے سامنے یہ سوال آیا کہ اس سب کے پیچھے کوئی خالق ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو اس کی حقیقت کیا ہے، انسان اسے کیسے جان سکتا ہے، اور خدا اور کائنات کا باہمی تعلق کیا ہے؟ مختلف تہذیبوں نے ان سوالات کے مختلف جواب دیے۔ یونانی فلسفیوں نے عقل اور استدلال کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی، مذہبی روایتوں نے وحی کو اہمیت دی، جبکہ اہلِ تصوف نے روحانی تجربے اور وجدان کو معرفت کا ایک اور راستہ سمجھا۔ اسلامی تہذیب میں یہ تینوں راستے ایک دوسرے سے ملے بھی، ٹکرائے بھی، اور اسی مکالمے سے ایک غیر معمولی فکری روایت نے جنم لیا۔

یہ کتاب بنیادی طور پر اسی فکری سفر کی داستان ہے۔ اس کا مقصد یہ فیصلہ کرنا نہیں کہ خدا کے بارے میں کون سا تصور درست ہے اور کون سا غلط، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں خدا کو کس طرح سمجھا گیا، یہ تصورات کیوں بدلے، اور ایک تصور نے دوسرے کو کس طرح متاثر کیا۔ کہانی یونانی فلسفے سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ وجود، علت، حقیقت اور خدا کے بارے میں بہت سے سوالات، جو بعد میں مسلم مفکرین کے سامنے آئے، اپنی ابتدائی فلسفیانہ صورت میں یونانی فکر میں موجود تھے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ الکندی، الفارابی اور ابن سینا نے عقل اور فلسفے کے ذریعے ان سوالات کے جواب تلاش کیے،معتزلہ اور اشعری علما نے عقل اور وحی کے تعلق پر بحث کی، غزالی نے فلسفے کو چیلنج کیا، ابن رشد نے اس کا دفاع کیا، صوفیا نے خدا کو محبت اور روحانی تجربے کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی،ابن عربی نے خدا اور وجود کے تعلق کو ایک نئی وسعت دی، جبکہ ابن تیمیہ نے قرآن اور سنت کی طرف براہِ راست واپسی پر زور دیا۔ یہ مختلف آوازیں مل کر اسلامی تصورِ خدا کی ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ بناتی ہیں۔یہ کتاب کسی ایک مکتبِ فکر کی حمایت یا مخالفت کے بجائے ان مختلف فکری راستوں کو ان کے تاریخی پس منظر میں سمجھنے کی کوشش ہے۔

میں نہ مذہبی عالم ہوں، نہ مؤرخ اور نہ فلسفی ہوں۔میری بنیادی شناخت ایک سائنس دان کی ہے۔ اس لیے اس کتاب کو نہ کسی مذہبی فتوے کے طور پر ، نہ فلسفے کی درسی کتاب کے طور پر، اور نہ ہی ماہرین کے لیے لکھی گئی اسلامی تاریخ کی تحقیق کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے پس منظر میں ایک سائنس دان کی وہ دیرینہ دلچسپی ہے جو اس بات کو سمجھنا چاہتی ہے کہ خیالات کیسے پیدا ہوتے ہیں، کس طرح بدلتے ہیں، ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، اور پھر نئے خیالات کو جنم دیتے ہیں۔ سائنس کی تاریخ بھی بڑی حد تک یہی کہانی ہے۔ کوئی نظریہ ہمیشہ آخری نظریہ نہیں رہتا۔ ہر جواب نئے سوال پیدا کرتا ہے اور ہر نسل اپنے سے پہلی نسل کے علم کو قبول کرنے کے ساتھ اس پر تنقید بھی کرتی ہے۔ اسی نگاہ سے اسلامی فکر میں خدا کے تصور کی تاریخ بھی ایک غیر معمولی مثال فراہم کرتی ہے۔

علم کو ایک بہتے ہوئے دریا سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ اس میں نئے چشمے شامل ہوتے رہتے ہیں، اس کا راستہ بدلتا رہتا ہے اور نئی زمینیں اسے نئی سمتیں دیتی رہتی ہیں۔ جب تک سوال اٹھتے رہیں، اختلاف کی گنجائش موجود رہے اور پرانے خیالات کو نئے علم کی روشنی میں دوبارہ جانچا جاتا رہے، علمی زندگی زندہ رہتی ہے۔ لیکن جب کسی معاشرے میں چند جوابات کو ہمیشہ کے لیے آخری جواب سمجھ لیا جائے، سوال اٹھانا ناپسندیدہ ہوجائے اور فکری اختلاف کو خطرہ تصور کیا جانے لگے تو علم کا یہ دریا آہستہ آہستہ ٹھہرنے لگتا ہے۔ علم میں جمود بالآخر معاشرے کے فکری جمود میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اسلامی تہذیب کی عظیم علمی صدیوں میں اس دریا کی روانی غیر معمولی تھی۔ فلسفی، متکلم، محدث، صوفی، طبیب، ریاضی دان اور ماہرینِ فلکیات ایک ہی تہذیب کے اندر رہتے ہوئے ہمیشہ ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے۔ ان کے درمیان بعض اوقات شدید اختلافات ہوئے، لیکن یہی اختلاف نئے سوالات اور نئے جوابات پیدا کرتا رہا۔ آٹھویں سے تیرھویں صدی تک اسلامی دنیا میں جس غیر معمولی علمی تخلیق کا ظہور ہوا، اس کے اسباب بہت سے تھے، لیکن عقلی اور فلسفیانہ فکر کے لیے موجود وسیع میدان یقیناً ان میں ایک اہم عنصر تھا۔ اس دور میں مسلمانوں نے صرف قدیم علوم محفوظ نہیں کیے بلکہ ان پر تنقید کی، انہیں وسعت دی اور نئے نظریات پیدا کیے۔

تیرھویں صدی کے بعد یہ فلسفیانہ اور عقلی دھارا بتدریج کمزور پڑنے لگا۔ مسلم معاشروں کے علمی زوال کو کسی ایک مفکر، ایک مذہبی مکتب یا ایک تاریخی واقعے سے منسوب کرنا تاریخ کو حد سے زیادہ سادہ بنانا ہوگا۔ اس کے سیاسی، معاشی، عسکری اور سماجی اسباب بھی تھے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جب آزاد فلسفیانہ جستجو اور عقلی اختلاف کی گنجائش سکڑنے لگی تو اسلامی تہذیب کی تخلیقی علمی قوت بھی کیوں کم ہوتی گئی۔ ایک تہذیب جو کبھی نئے سوال پوچھنے میں اعتماد محسوس کرتی تھی، رفتہ رفتہ اپنے ماضی کے جوابات کی حفاظت میں مصروف ہوتی گئی۔

اسی لیے یہ کتاب صرف خدا کے تصور کی تاریخ نہیں۔ ایک سطح پر یہ خیالات کی زندگی کی داستان بھی ہے—خیالات کیسے جنم لیتے ہیں، کیسے ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہیں، کیسے بدلتے ہیں، اور کبھی کیسے منجمد ہوجاتے ہیں۔ الکندی، ابن سینا، الغزالی، ابن رشد، ابن عربی یا ابن تیمیہ سے اتفاق کرنا یا اختلاف کرنا اس کتاب کا مقصد نہیں بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش کرنا مقصد ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے زمانے میں وہ بات کیوں کہی جو انہوں نے کہی، اور ان کے خیالات نے آنے والی صدیوں کو کس طرح متاثر کیا۔

اگر یہ کتاب قاری کو اسلامی تاریخ کے اس عظیم فکری مکالمے سے متعارف کرانے کے ساتھ یہ احساس بھی دلا سکے کہ علم کسی منزل کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے، تو شاید اس کا بنیادی مقصد پورا ہوجائے۔ زندہ علمی روایت وہ نہیں جس میں تمام لوگ ایک ہی جواب پر متفق ہوجائیں، بلکہ وہ ہے جس میں انسان کو سوال پوچھنے، اختلاف کرنے، دلیل دینے اور نئی حقیقت سامنے آنے پر اپنے پرانے تصور پر دوبارہ غور کرنے کا حوصلہ باقی رہے۔

Book Attributes
Pages245

Write a review

Note: HTML is not translated!
Rating
Bad Good
Captcha