مصنف ربی سنکر بال نے اس ناول کو منٹو کی تحریر کہا ہے جو کسی طرح اس کی دسترس میں آگئی تھی۔ یہ ناول منٹو کو ہی لکھنا چاہے تھا، شایدمنٹو جیسا خود آگاہ غا..
مولوی تمیز الدین، اسیرانِ ضمیر میں سے تھے۔ وہ نسل جو آج حکمران طبقے، سیاست دان گروہ اور سازشی اداروں کی سیاسی قلابازیوں پر انگشت بدنداں ہے، اسے یہ بت..
سجاد ظہیر کی شخصیت ان کی تمام چیزوں پر بھاری تھی۔ تحریر کو اگر ہم ان کے سیاسی کارناموں کے مقابلے میں لیں تو مجھے ان کی تحریریں زیادہ دلکش نظر آتی ہیں..