میں تو بھول ہی گیا تھا کہ میں بھی کبھی بچہ تھا!
’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ پڑھا تو یاد آیا کہ کبھی میں بھی اپنی سہمی سہمی آنکھوں سے اُس عجیب کارخانے کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا! میں بھی طرح طرح کے سوالات کیا کرتا تھا! کبھی خود سے اور کبھی دوسروں سے۔ میں بھی یہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا کہ میرے چاروں طر..