The intent of the book is made clear in the last chapter: "Yeh Deewanagi Kab Khatam Hogi?". As A. B. Vajpayee had asked, when does the madness between..
اُردو صحافت اور ادب کی تاریخ میں شکیل عادل زادہ کا نقش دائمی ہے۔ آسانی سے زمانہ جسے مٹا نہ سکے گا۔ سہولت سے گردشِ لیل و نہار جسے بھلا نہ سکے گی۔ شکیل..
"اگلی نسل ویسی نہیں رہی۔” یہ گلہ برسوں سے ہر نئی نسل کو دیکھنے والے کرتے آ رہے ہیں۔ یہ ہی بات اس ناول میں بھی ہے۔ پہلے وہ نسل خود بغاوت کرتی ہے اور جب..