میں آج اپنی زندگی کے آٹھویں عشرے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ زندگی کی برق رفتاری نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیوں کیا ہے؟ کہمیں نے سماج کے فرسودہ ریت و رواج ..
اللہ تعالی نےانسان کوعقل و شعور سے نوازا ہے۔عقل کو اگر شتر بے مہار کی طرح آزاد چھوڑ ديا جائے اوراسے خاص حدود وضوابط کا پابندنہ بنايا جا ئے تو وہ فائدے..
لکھنا چاہیے کہ سماج اپنے ڈھانچے میں تبدیلی کی کس طرح مزاحمت کرتا ہے اور وہ چند لوگ جو نئی اقدار، نئی سوچ یا اک نیا شعور پالیتے ہیں کیونکر منافقانہ زند..