1950ء میں جب ایک بتیس سالہ ایرانی شخص نے میٹ لائف نیویارک میں لائف انشورنس سیلزکام کے لیے درخواست دی تو ڈسٹرکٹ سیلز منیجر میکس شائولاس نے کہا: ’’اوہ خ..
جسم کی اذیتیں ہمیشہ کچھ نہ کچھ تسلیم کرانے کے لیے دی جاتی ہیں۔ ہم صرف یہ تسلیم کرانا چاہتے ہیں کہ آدمی ہر کام کرسکتا ہے۔ ہر کام ۔ صرف اپنی مرضی سے نہ..
یہ کتاب ناصر عباس نیر صاحب کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔
دو سال قبل جب معاصر عہد کے ممتاز نقاد ناصر عباس نیر کا پہلا افسانوی مجموعہ خاک کی مہک شایع ہوا تو..