2 مئی 1864ء کو عدالت میں جج کی آواز گونجی: ’’مولوی محمد جعفر!!‘‘
تم بہت عقلمند، ذی علم اور قانون دان، اپنے شہر کے نمبردار اور رئیس ہو، تم نے اپنی سا..
خالد فتح محمد صاحب نے پچھلے چار سو سال کی تاریخ کو "شہرِ مدفون" میں سمو ڈالا۔ برصغیر کی تقسیم کا زخم اور بعد از تقسیم سیاسی، سماجی توڑ پھوڑ کو خوبصورت..
1880ء میں شمس العلماء مولوی محمد حسین آزاد نے شاعروں اور ادیبوں کے قصے لکھ کر انہیں شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں جگہ دلائی۔ اب تقریباً ایک س..
اُس وقت میری عمر پانچ چھ برس ہو گی۔ ہمارے گھر کے سامنے سے کچی سڑک گزرتی تھی۔ سڑک کے ساتھ پانی کا نالہ چلتا تھا اور کنارے پر دونوں جانب ٹاہلیوں کے بلند..